Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
1007 - 1029
    مسئلہ ۲۶: کسی نے ہمیشہ روزہ رکھنے کی منّت مانی اور برابر روزے رکھے تو کوئی کام نہیں کر سکتا جس سے بسر اوقات ہو تو اُسے بقدر ضرورت افطار کی اجازت ہے اور ہرروزے کے بدلے میں فدیہ دے اور اس کی بھی قوت نہ ہو تو استغفار کرے۔ (1) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۲۷: نفل روزہ قصداً شروع کرنے سے لازم ہو جاتا ہے کہ توڑے گا تو قضا واجب ہوگی اور یہ گمان کر کے کہ اس کے ذمّہ کوئی روزہ ہے، شروع کیا بعد کومعلوم ہوا کہ نہیں ہے، اب اگر فوراً توڑ دیا تو کچھ نہیں اور یہ معلوم کرنے کے بعد نہ توڑا تو اب نہیں توڑ سکتا، توڑے گا تو قضا واجب ہوگی۔ (2) (درمختار) 

    مسئلہ ۲۸: نفل روزہ قصداً نہیں توڑا بلکہ بِلااختیار ٹوٹ گیا، مثلاً اثنائے روزہ میں حیض آگیا، جب بھی قضا واجب ہے۔ (3) (درمختار) 

    مسئلہ ۲۹: عیدین یا ایام تشریق میں روزہ نفل رکھا تو اس روزہ کا پورا کرنا واجب نہیں، نہ اُس کے توڑنے سے قضا واجب، بلکہ اس روزہ کا توڑ دینا واجب ہے اور اگر ان دنوں میں روزہ رکھنے کی منّت مانی تو منّت پوری کرنی واجب ہے مگر ان دنوں میں نہیں بلکہ اور دنوں میں۔ (4) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۳۰: نفل روزہ بلاعذر توڑ دینا ناجائز ہے، مہمان کے ساتھ اگرمیزبان نہ کھائے گا تو اسے ناگوار ہوگا یا مہمان اگر کھانا نہ کھائے تو میزبان کو اذیت ہوگی تو نفل روزہ توڑ دینے کے لیے یہ عذر ہے، بشرطیکہ یہ بھروسہ ہو کہ اس کی قضا رکھ لے گا اور بشرطیکہ ضحوہ کبریٰ سے پہلے توڑے بعد کو نہیں۔ زوال کے بعد ماں باپ کی ناراضی کے سبب توڑ سکتا ہے اور اس میں بھی عصر کے قبل تک توڑ سکتا ہے بعد عصر نہیں۔ (5) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۳۱: کسی نے یہ قسم کھائی کہ اگر تو روزہ نہ توڑے تو میری عورت کو طلاق ہے، تو اُسے چاہیے کہ اس کی قسم سچی کر دے یعنی روزہ توڑ دے اگرچہ روزہ قضا ہو (6) اگرچہ بعد زوال ہو۔ (درمختار)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۷۲. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۷۳. 

3۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۴۷۴. 

4۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۷۴. 

5۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۷۵ ۔ ۴۷۷. 

و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الخامس في الاعذار التی تبیح الإفطار، ج۱، ص۲۰۸. 

6۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۷۶.
Flag Counter