ہے اور زکاۃ دیناچاہیں تو جتنی واجب تھی اُس قدر نکالیں۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۲۱: شیخ فانی یعنی وہ بوڑھا جس کی عمر ایسی ہوگئی کہ اب روزبروز کمزور ہی ہوتا جائے گا، جب وہ روزہ رکھنے سے عاجز ہو یعنی نہ اب رکھ سکتا ہے نہ آئندہ اُس میں اتنی طاقت آنے کی اُمید ہے کہ روزہ رکھ سکے گا، اُسے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے اورہر روزہ کے بدلے میں فدیہ یعنی دونوں وقت ایک مسکین کو بھر پیٹ کھاناکھلانا اس پرواجب ہے یا ہر روزہ کے بدلے میں صدقہ فطر کی مقدار مسکین کو دیدے۔ (2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۲: اگر ایسا بوڑھا گرمیوں میں بوجہ گرمی کے روزہ نہیں رکھ سکتا، مگر جاڑوں (3) میں رکھ سکے گا تو اب افطار کرلے اور اُن کے بدلے کے جاڑوں میں رکھنا فرض ہے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۳: اگر فدیہ دینے کے بعد اتنی طاقت آگئی کہ روزہ رکھ سکے ،تو فدیہ صدقہ نفل ہوکر رہ گیا ان روزوں کی قضا رکھے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: یہ اختیار ہے کہ شروع رمضان ہی میں پورے رمضان کا ایک دم فدیہ دے دے یا آخر میں دے اور اس میں تملیک (6) شرط نہیں بلکہ اباحت بھی کافی ہے اور یہ بھی ضرور نہیں کہ جتنے فدیے ہوں اتنے ہی مساکین کو دے بلکہ ایک مسکین کو کئی دن کے فدیے دے سکتے ہیں۔ (7) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۵: قسم (8) یا قتل (9) کے کفارہ کا اس پر روزہ ہے اور بڑھاپے کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتا تو اس روزہ کافدیہ نہیں اور روزہ توڑنے یا ظہار (10) کا کفارہ اس پر ہے ،تو اگر روزہ نہ رکھ سکے ساٹھ مسکینوں کو کھاناکھلا وے۔ (11) (عالمگیری)