اور اگر روزے نہ رکھے اور دوسرا رمضان آگیا تو اب پہلے اس رمضان کے روزے رکھ لے، قضا نہ رکھے، بلکہ اگر غیر مریض و مسافر نے قضا کی نیّت کی جب بھی قضا نہیں بلکہ اُسی رمضان کے روزے ہیں۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۵: خود اس مسافر کو اور اُس کے ساتھ والے کو روزہ رکھنے میں ضرر نہ پہنچے تو روزہ رکھنا سفر میں بہتر ہے ورنہ نہ رکھنا بہتر۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: اگر یہ لوگ اپنے اُسی عذر میں مر گئے، اتنا موقع نہ ملا کہ قضا رکھتے تو ان پر یہ واجب نہیں کہ فدیہ کی وصےّت کر جائیں پھر بھی وصیّت کی تو تہائی مال میں جاری ہوگی اور اگر اتناموقع ملا کہ قضا روزے رکھ لیتے، مگر نہ رکھے تو وصیّت کرجانا واجب ہے اور عمداً نہ رکھے ہوں تو بدرجہ اَولیٰ وصیّت کرنا واجب ہے اور وصیّت نہ کی، بلکہ ولی نے اپنی طرف سے دے دیا تو بھی جائز ہے مگر ولی پر دینا واجب نہ تھا۔ (3) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: ہر روزہ کا فدیہ بقدر صدقہ فطر ہے اور تہائی مال میں وصیّت اس وقت جاری ہوگی، جب اس میت کے وارث بھی ہوں اور اگر وارث نہ ہوں اورسارے مال سے فدیہ ادا ہوتا ہو تو سب فدیہ میں صرف کر دینا لازم ہے۔ یوہیں اگر وارث صرف شوہر یا زوجہ ہے تو تہائی نکالنے کے بعد ان کا حق دیا جائے، اس کے بعد جوکچھ بچے اگر فدیہ میں صرف ہوسکتا ہے تو صرف کر دیا جائے گا۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۸: وصیّت کرنا صرف اتنے ہی روزوں کے حق میں واجب ہے جن پر قادر ہوا تھا، مثلاً دس قضا ہوئے تھے اور عذر جانے کے بعد پانچ پر قادر ہوا تھا کہ انتقال ہوگیا تو پانچ ہی کی وصیّت واجب ہے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۱۹: ایک شخص کی طرف سے دوسرا شخص روزہ نہیں رکھ سکتا۔ (6) (عامہ کتب)
مسئلہ ۲۰: اعتکاف واجب اور صدقہ فطرکا بدلہ اگر ورثہ ادا کر دیں تو جائز ہے اور اُن کی مقدار وہی بقدر صدقہ فطر