Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
1004 - 1029
اعتبار نہیں نہ ان کے کہنے پر روزہ افطار کیا جائے۔ ان طبیبوں کو دیکھا جاتا ہے کہ ذرا ذرا سی بیماری میں روزہ کو منع کر دیتے ہیں، اتنی بھی تمیز نہیں رکھتے کہ کس مرض میں روزہ مُضر ہے کس میں نہیں۔ 

    مسئلہ ۸: باندی کو اپنے مالک کی اطاعت میں فرائض کا موقع نہ ملے تو یہ کوئی عذر نہیں۔ فرائض ادا کرے اور اتنی دیر کے لیے اُس پر اطاعت نہیں۔ مثلاً فرض نماز کا وقت تنگ ہو جائے گا تو کام چھوڑ دے اور فرض ادا کرے اور اگر اطاعت کی اور روزہ توڑ دیا تو کفارہ دے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۹: عورت کو جب حیض و نفاس آگیا تو روزہ جاتا رہا اور حیض سے پورے دس دن رات میں پاک ہوئی تو بہرحال کل کا روزہ رکھے اور کم میں پاک ہوئی تو اگر صبح ہونے کو اتنا عرصہ ہے کہ نہا کر خفیف سا وقت بچے گا تو بھی روزہ رکھے اور اگر نہا کر فارغ ہونے کے وقت صبح چمکی تو روزہ نہیں۔ (2) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۰: حیض و نفاس والی کے لیے اختیار ہے کہ چھپ کر کھائے یا ظاہراً، روزہ کی طرح رہنا اس پر ضروری نہیں۔ (3) (جوہرہ) مگر چھپ کر کھانا اَولیٰ ہے خصوصاً حیض والی کے لیے۔ 

    مسئلہ ۱۱: بھوک اور پیاس ایسی ہو کہ ہلاک کا خوف صحیح یا نقصانِ عقل کا اندیشہ ہو تو روزہ نہ رکھے۔ (4) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۲: روزہ توڑنے پر مجبور کیا گیا تو اسے اختیار ہے اور صبر کیا تو اجر ملے گا۔ (5) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۱۳: سانپ نے کاٹا اور جان کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں روزہ توڑ دیں۔ (6) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۱۴: جن لوگوں نے ان عذروں کے سبب روزہ توڑا، اُن پر فرض ہے کہ ان روزوں کی قضا رکھیں اور ان قضا روزوں میں ترتیب فرض نہیں۔ فلہٰذا اگر ان روزوں کے پہلے نفل روزے رکھے تو یہ نفلی روزے ہوگئے، مگر حکم یہ ہے کہ عذر جانے کے بعد دوسرے رمضان کے آنے سے پہلے قضا رکھ لیں۔ 

    حدیث میں فرمایا: ''جس پر اگلے رمضان کی قضا باقی ہے اور وہ نہ رکھے اس کے اس رمضان کے روزے قبول نہ ہوں گے۔'' (7)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۶۴. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الخامس في الاعذار التی تبیح الإفطار، ج۱، ص۲۰۷. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الجوھرۃ النیرۃ''، کتاب الصوم، ص۱۸۶. 

4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الخامس في الاعذار التی تبیح الإفطار، ج۱، ص۲۰۷. 

5۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۶۲.     6۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق. 

7۔۔۔۔۔۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند أبي ہریرۃ، الحدیث: ۸۶۲۹، ج۳، ص۲۶۶.
Flag Counter