مسئلہ ۲: سفر سے مراد سفر شرعی ہے یعنی اتنی دُور جانے کے ارادہ سے نکلے کہ یہاں سے وہاں تک تین دن کی مسافت ہو، اگرچہ وہ سفر کسی ناجائز کام کے لیے ہو۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۳: دن میں سفر کیا تو اُس دن کا روزہ افطار کرنے کے لیے آج کا سفر عذر نہیں۔ البتہ اگر توڑے گا تو کفارہ لازم نہ آئے گا مگر گنہگار ہوگا اور اگر سفر کرنے سے پہلے توڑ دیا پھر سفر کیا تو کفارہ بھی لازم اور اگر دن میں سفرکیا اور مکان پر کوئی چیز بھول گیاتھا، اُسے لینے واپس آیا اور مکان پر آکر روزہ توڑ ڈالا تو کفارہ واجب ہے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: مسافر نے ضحوہ کبریٰ سے پیشتر اقامت کی اور ابھی کچھ کھایا نہیں تو روزہ کی نیّت کر لینا واجب ہے۔ (3) (جوہرہ)
مسئلہ ۵: حمل والی اور دودھ پلانے والی کو اگر اپنی جان یا بچہ کا صحیح اندیشہ ہے، تو اجازت ہے کہ اس وقت روزہ نہ رکھے، خواہ دودھ پلانے والی بچہ کی ماں ہو یا دائی اگرچہ رمضان میں دودھ پلانے کی نوکری کی ہو۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶: مریض کو مرض بڑھ جانے یا دیر میں اچھا ہونے یا تندرست کو بیمار ہو جانے کا گمان غالب ہو یا خادم و خادمہ کو ناقابل برداشت ضعف کا غالب گمان ہو تو ان سب کو اجازت ہے کہ اس دن روزہ نہ رکھیں۔ (5) (جوہرہ، درمختار)
مسئلہ ۷: ان صورتوں میں غالب گمان کی قید ہے محض وہم ناکافی ہے۔ غالب گمان کی تین صورتیں ہیں۔
(۱) اس کی ظاہر نشانی پائی جاتی ہے یا
(۲) اس شخص کا ذاتی تجربہ ہے یا
(۳) کسی مسلمان طبیب حاذق مستور یعنی غیر فاسق نے اُس کی خبر دی ہو اور اگر نہ کوئی علامت ہو نہ تجربہ نہ اس قسم کے طبیب نے اُسے بتایا ،بلکہ کسی کافر یا فاسق طبیب کے کہنے سے افطار کر لیا تو کفارہ لازم آئے گا۔ (6) (ردالمحتار) آج کل کے اکثر اطبا اگر کافر نہیں تو فاسق ضرور ہیں اور نہ سہی تو حاذق طبیب فی زمانہ نایاب سے ہو رہے ہیں، ان لوگوں کا کہنا کچھ قابلِ