| بہارِشریعت حصّہ پنجم (5) |
جبرئیل علیہ الصلاۃ والسّلام شبِ قدر میں اُس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔'' (1)
اور ایک روایت میں ہے، ''جو حلال کمائی سے رمضان میں روزہ افطار کرائے، رمضان کی تمام راتوں میں فرشتے اس پر دُرود بھیجتے ہیں اور شبِ قدر میں جبرئیل اس سے مصافحہ کرتے ہیں۔'' (2)
اور ایک روایت میں ہے، ''جو روزہ دار کو پانی پلائے گا، اﷲ تعالیٰ اُسے میرے حوض سے پلائے گا کہ جنت میں داخل ہونے تک پیاسا نہ ہوگا۔'' (3)بیان اُن وجوہ کا جن سے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے
حدیث ۱: صحیحین میں اُم المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی، کہتی ہیں حمزہ بن عمرو اسلمی بہت روزے رکھا کرتے تھے، انہوں نے نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے دریافت کیا، کہ سفر میں روزہ رکھوں؟ ارشاد فرمایا: ''چاہو رکھو، چاہے نہ رکھو۔'' (4)
حدیث ۲: صحیح مسلم میں ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہتے ہیں سولھویں رمضان کو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ ہم جہاد میں گئے۔ ہم میں بعض نے روزہ رکھا اور بعض نے نہ رکھا تو نہ روزہ داروں نے غیر روزہ داروں پر عیب لگایا اورنہ انھوں نے ان پر۔ (5)
حدیث ۳: ابو داود و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ انس بن مالک کعبی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ''اﷲ تعالیٰ نے مسافر سے آدھی نماز معاف فرما دی (یعنی چار رکعت والی دو پڑھے گا) اور مسافر اور دُودھ پلانے والی اور حاملہ سے روزہ معاف فرما دیا۔'' (6) (کہ اُن کو اجازت ہے کہ اُس وقت نہ رکھیں بعد میں وہ مقدار پوری کرلیں)۔
مسئلہ ۱: سفر و حمل اور بچہ کو دودھ پلانا اور مرض اور بڑھاپا اور خوف ہلاک و اکراہ و نقصانِ عقل اور جہاد یہ سب روزہ نہ رکھنے کے لیے عذر ہیں، ان وجوہ سے اگر کوئی روزہ نہ رکھے تو گنہگار نہیں۔ (7) (درمختار)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ ''المعجم الکبیر''، الحدیث: ۶۱۶۲، ج۶، ص۲۶۱. 2۔۔۔۔۔۔ ''کنز العمال''، کتاب الصوم، الحدیث: ۲۳۶۵۳، ج۸، ص۲۱۵. 3۔۔۔۔۔۔ ''شعب الایمان''، باب في الصیام، فضائل شھر رمضان، الحدیث: ۳۶۰۸، ج۳، ص۳۰۵ ۔ ۳۰۶. 4۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الصوم، باب الصوم في السفر والإفطار، الحدیث: ۱۹۴۳، ج۱، ص۶۴۰. 5۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الصیام، باب جواز الصوم والفطرفي الشھر رمضان... إلخ، الحدیث: ۱۱۱۶، ص۵۶۴. 6۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصوم، باب ماجاء في الرخصۃ في الإفطار للحبلی والمرضع، الحدیث: ۷۱۵، ج۲، ص۱۷۰. 7۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۶۲.