حدیث ۱۳: احمد و ترمذی و ابن خزیمہ و ابن حبان ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: کہ اﷲ عزوجل نے فرمایا: ''میرے بندوں میں مجھے زیادہ پیارا وہ ہے، جو افطار میں جلدی کرتا ہے۔'' (1)
حدیث ۱۴: طبرانی اوسط میں یعلی بن مرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرمایا: ''تین چیزوں کو اﷲ (عزوجل) محبوب رکھتا ہے۔ افطار میں جلدی کرنا اور سحری میں تاخیر اور نماز میں ہاتھ پر ہاتھ رکھنا۔'' (2)
حدیث ۱۵: ابو داود و ابن خزیمہ و ابن حبان ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''یہ دین ہمیشہ غالب رہے گا، جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے کہ یہود و نصاریٰ تاخیر کرتے ہیں۔'' (3)
حدیث ۱۶: امام احمد و ابو داود و ترمذی و ابن ماجہ و دارمی سلمان بن عامر ضبی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضورِاقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جب تم میں کوئی روزہ افطار کرے تو کھجور یا چھوہارے سے افطار کرے کہ وہ برکت ہے اور اگر نہ ملے تو پانی سے کہ وہ پاک کرنے والا ہے۔'' (4)
حدیث ۱۷: ابو داود و ترمذی انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نماز سے پہلے تر کھجوروں سے روزہ افطار فرماتے، تر کھجوریں نہ ہوتیں تو چند خشک کھجوروں سے اور اگر یہ بھی نہ ہوتیں تو چند چلّو پانی پیتے۔'' (5) ابو داود نے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) افطار کے وقت یہ دُعا پڑھتے۔
اَللّٰھُمَّ لَکَ صُمْتُ وَ عَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ. (6)
حدیث ۱۸: نسائی و ابن خزیمہ زید بن خالد جہنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرمایا: ''جو روزہ دار کا روزہ افطار کرائے یا غازی کا سامان کر دے تو اوسے بھی اتنا ہی ملے گا۔'' (7)
حدیث ۱۹: طبرانی کبیر میں سلمان فارسی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جس نے حلال کھانے یا پانی سے روزہ افطار کرایا۔ فرشتے ماہِ رمضان کے اوقات میں اس کے لیے استغفار کرتے ہیں اور