''تین چیزوں میں برکت ہے، جماعت اور ثرید اور سحری میں۔'' (1)
حدیث ۴: طبرانی اوسط میں اور ابن حبان صحیح میں ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ''اﷲ (عزوجل) اور اُس کے فرشتے، سحری کھانے والوں پر دُرود بھیجتے ہیں۔'' (2)
حدیث ۵: ابن ماجہ و ابن خزیمہ و بیہقی ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''سحری کھانے سے دن کے روزہ پر استعانت کرو اور قیلولہ سے رات کے قیام پر۔'' (3)
حدیث ۶: نسائی باسناد حسن ایک صحابی سے راوی، کہتے ہیں میں حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) سحری تناول فرما رہے تھے، ارشاد فرمایا: ''یہ برکت ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے تمھیں دی تو اسے نہ چھوڑنا۔'' (4)
حدیث ۷: طبرانی کبیر میں عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''تین شخصوں پر کھانے میں انشاء اﷲ تعالیٰ حساب نہیں، جبکہ حلال کھایا۔ روزہ دار اور سحری کھانے والا اور سرحد پر گھوڑا باندھنے والا۔'' (5)
حدیث ۸تا۱۰: امام احمد ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''سحری کُل کی کُل برکت ہے اُسے نہ چھوڑنا، اگرچہ ایک گھونٹ پانی ہی پی لے کیونکہ سحری کھانے والوں پر اﷲ (عزوجل) اور اس کے فرشتے دُرود بھیجتے ہیں۔'' (6) نیز عبداﷲ بن عمرو سائب بن یزید و ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنھم سے بھی اسی قسم کی روایتیں آئیں۔
حدیث ۱۱: بخاری و مسلم و ترمذی سہل بن سعد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''ہمیشہ لوگ خیر کے ساتھ رہیں گے، جب تک افطار میں جلدی کریں گے۔'' (7)
حدیث ۱۲: ابن حبان صحیح میں انھیں سے راوی، کہ فرمایا: ''میری اُمت میری سنت پر رہے گی، جب تک افطار میں ستاروں کا انتظار نہ کرے۔'' (8)