مسئلہ ۶: لوگوں نے مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھی، بعد کو معلوم ہوا کہ وہ نماز صحیح نہ ہوئی تھی اور وقت باقی ہے، تو اسی مسجد میں جماعت سے پڑھیں اور اَذان کا اعادہ نہیں اور فصل طویل نہ ہو، تو اِقامت کی بھی حاجت نہیں اور زیادہ وقفہ ہوا تو اِقامت کہے اور وقت جاتا رہا، تو غیر مسجد میں اَذان و اِقامت کے ساتھ پڑھیں۔ (1) (ردالمحتار، عالمگیری مع افاداتِ رضویہ)
مسئلہ ۷: جماعت بھر کی نماز قضا ہوگئی، تو اَذان و اِقامت سے پڑھیں اور اکیلا بھی قضا کے ليے اَذان و اِقامت کہہ سکتا ہے، جب کہ جنگل میں تنہا ہو، ورنہ قضا کا اظہار گناہ ہے، و لہٰذا مسجد میں قضا پڑھنا مکروہ ہے اور پڑھے تو اَذان نہ کہے اور وتر کی قضا میں دعائے قنوت کے وقت رفع یدین نہ کرے، ہاں اگر کسی ایسے سبب سے قضا ہوگئی، جس میں وہاں کے تمام مسلمان مبتلا ہوگئے، تو اگرچہ مسجد میں پڑھیں اَذان کہیں۔ (2) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار مع تنقیح از افاداتِ رضویہ)
مسئلہ ۸: اہل جماعت سے چند نمازیں قضا ہوئیں، تو پہلی کے ليے اَذان و اِقامت دونوں کہیں اور باقیوں میں اختیار ہے، خواہ دونوں کہیں یا صرف اِقامت پر اِکتفا کریں اور دونوں کہنا بہتر۔ یہ اُس صورت میں ہے کہ ایک مجلس میں وہ سب پڑھیں اور اگر مختلف اوقات میں پڑھیں، تو ہر مجلس میں پہلی کے لیے اَذان کہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: وقت ہونے کے بعد اَذان کہی جائے، قبل از وقت کہی گئی يا وقت ہونے سے پہلے شروع ہوئی اور اَثنائے اَذان میں وقت آگیا، تو اعادہ کی جائے۔ (4) (متون، درمختار)
مسئلہ ۱۰: اَذان کا وقت مستحب وہی ہے، جو نماز کا ہے یعنی فجر میں روشنی پھیلنے کے بعد اور مغرب اور جاڑوں کی ظہر میں اوّل وقت اور گرمیوں کی ظہر اور ہر موسم کی عصر و عشا میں نصف وقت مستحب گزرنے کے بعد، مگر عصر میں اتنی تاخیر نہ ہو کہ نماز پڑھتے پڑھتے وقت مکروہ آجائے اور اگر اوّل وقت اَذان ہوئی اور آخر وقت میں نماز ہوئی، تو بھی سنت اَذان ادا ہوگئی۔ (5) (درمختار و ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: فرائض کے سوا باقی نمازوں مثلاً وتر، جنازہ، عیدین، نذر، سنن، رواتب، تراویح، استسقا، چاشت، کسوف، خسوف، نوافل میں اَذان نہیں۔ (6) (عالمگیری)