Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ سِوُم (3)
464 - 651
    حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ 

    حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ 

    حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ 

    حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ 

    اَللہُ اَکْبَرْ اَللہُ اَکْبَرْ 

    لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ . (1)
    مسئلہ ۱: فرض پنج گانہ کہ انھیں میں جمعہ بھی ہے، جب جماعت مستحبہ کے ساتھ مسجد میں وقت پر ادا کيے جائیں تو ان کے ليے اَذان سنت مؤکدہ ہے اور اس کا حکم مثل واجب ہے کہ اگر اذن نہ کہی تو وہاں کے سب لوگ گنہگار ہوں گے، یہاں تک کہ امام محمد رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر کسی شہر کے سب لوگ اَذان ترک کردیں، تو میں ان سے قِتال کروں گا اور اگر ایک شخص چھوڑ دے تو اسے ماروں گا اور قید کروں گا۔ (2) (خانیہ و ہندیہ و درمختار و ردالمحتار) 

    مسئلہ ۲: مسجد میں بلا اَذان و اِقامت جماعت پڑھنا مکروہ ہے۔ (3) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۳: قضا نماز مسجد میں پڑھے تو اَذان نہ کہے، اگر کوئی شخص شہرمیں گھر میں نماز پڑھے اور اَذان نہ کہے تو کراہت نہیں ، کہ وہاں کی مسجد کی اَذان اس کے ليے کافی ہے۔ اور کہہ لینا مستحب ہے۔ (4) (ردالمحتار)

    مسئلہ ۴: گاؤں میں مسجد ہے کہ اس میں اَذان و اِقامت ہوتی ہے، تو وہاں گھر میں نماز پڑھنے والے کا وہی حکم ہے، جو شہر میں ہے اور مسجد نہ ہو تو اَذان و اِقامت میں اس کا حکم مسافِر کا سا ہے۔ (5) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۵: اگر بيرون شہر و قریہ باغ یا کھیتی وغیرہ میں ہے اور وہ جگہ قریب ہے تو گاؤں یا شہر کی اَذان کِفایَت کرتی ہے، پھر بھی اَذان کہہ لینا بہتر ہے اور جو قریب نہ ہو تو  کافی نہیں ،قریب کی حد یہ ہے کہ یہاں کی اَذان کی آواز وہاں تک پہنچتی ہو۔ (6) (عالمگیری)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۵. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الأول، ج۱، ص۵۳. 

و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۲، ص۶۰، و ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۱، ص۳۴. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان،الفصل الأول، ج۱، ص۵۴. 

4۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، ج۲، ص۶۲. 

5۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الأول، ج۱، ص۵۴. 

6۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الأول، ج۱، ص۵۴.
Flag Counter