| بہارِشریعت حصّہ سِوُم (3) |
حدیث ۳۰: طَبَرانی کی روایت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہے کہ : ''عورتوں کے ليے ہر کلمہ کے مقابل دس لاکھ درجے بلند کيے جائیں گے۔'' فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی، یہ عورتوں کے ليے ہے، مردوں کے ليے کیا ہے؟ فرمایا: ''مردوں کے ليے دُونا۔'' (1)
حدیث ۳۱: حاکم و ابو نعیم ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''مؤذن کو نماز پڑھنے والے پر دوسو بیس حسنہ زیادہ ہے، مگر وہ جو اس کی مثل کہے اور اگر اِقامت کہے تو ایک سو چالیس نیکی ہے، مگر وہ جو اس کی مثل کہے۔'' (2)
حدیث ۳۲: صحیح مُسلِم میں امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''جب مؤذن اَذان دے، تو جو شخص اس کی مثل کہے اور جب وہ''حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ''
کہے، تو یہ
''لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ''
کہے جنت میں داخل ہو گا۔'' (3)
حدیث ۳۳: ابو داود و ترمذی و ابن ماجہ نے روایت کی، زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: ''نماز فجر میں رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اَذان کہنے کا مجھے حکم دیا، میں نے اَذان کہی، بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اِقامت کہنی چاہی، فرمایا: ''صدائی نے اَذان کہی اور جو اَذان دے وہی اِقامت کہے۔'' (4)
مسائل فقہیہ: اَذان عرف شرع میں ایک خاص قسم کا اعلان ہے، جس کے ليے الفاظ مقرر ہیں، الفاظِ اَذان یہ ہیں: اَللہُ اَکْبَرْ اَللہُ اَکْبَرْ
اَللہُ اَکْبَرْ اَللہُ اَکْبَرْ
اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ
اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ
اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہِ
اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہِــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ ''المعجم الکبير'' للطبراني، الحدیث: ۲۸، ج۲۴، ص۱۶. 2۔۔۔۔۔۔ ''کنزالعمال''، کتاب الصلاۃ، الحدیث: ۲۱۰۰۸، ج۷، ص۲۸۷. 3۔۔۔۔۔۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الصلاۃ، باب استيجاب القول مثل قول المؤذن لمن سمعہ، الحديث: ۳۸۵، ص۲۰۳. 4۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''، کتاب الصلاۃ، باب ماجاء أن من أذن فھو يقيم، الحديث: ۱۹۹، ج۱، ص۲۴۳.