حدیث ۲۴: طَبَرانی کبیر میں کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جب تُو اَذان سُنے تو اﷲ کے داعی کا جواب دے۔'' (3)
حدیث ۲۵: ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''جب مؤذّن کو اَذان کہتے سنو تو جو وہ کہتا ہے، تم بھی کہو۔'' (4)
حدیث ۲۶: فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''مومن کو بدبختی و نامرادی کے ليے کافی ہے کہ موذّن کو تکبیر کہتے سنے اور اجابت نہ کرے۔'' (5)
حدیث ۲۷: کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''ظلم ہے، پورا ظلم اور کفر ہے اور نفاق ہے، یہ کہ اﷲ کے منادی کو اَذان کہتے سُنے اورحاضرنہ ہو۔'' (6) یہ دونوں حدیثیں طَبَرانی نے معاذ بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیں اَذان کے جواب کا نہایت عظیم ثواب ہے۔
حدیث ۲۸: ابوالشیخ کی روایت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے: ''اس کی مغفرت ہو جائے گی۔'' (7)
حدیث ۲۹: ابن عساکِر نے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اے گروہ زنان! جب تم بلال کو اَذان و اِقامت کہتے سنو، تو جس طرح وہ کہتا ہے، تم بھی کہو کہ اﷲ تعالیٰ تمھارے ليے ہر کلمہ کے بدلے ایک لاکھ نیکی لکھے گا اور ہزار درجے بلند فرمائے گا اور ہزار گناہ محو کریگا، عورتوں نے عرض کی یہ تو عورتوں کے ليے ہے، مردوں کے ليے کیا ہے؟ فرمایا: مردوں کے ليے دُونا۔'' (8)