Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ سِوُم (3)
461 - 651
یوں ہو گا کہ جنت کی اونٹنیوں پر سوار ہوں گے، ان کے آگے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوں گے سب کے سب بلند آواز سے اَذان کہتے ہوئے آئیں گے، لوگ ان کی طرف نظر کریں گے، پوچھیں گے یہ کون لوگ ہیں؟ کہا جائے گا، یہ اُمّت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مؤذن ہیں، لوگ خوف میں ہیں اور ان کو خوف نہیں لوگ غم میں ہیں، ان کو غم نہیں۔'' (1) 

    حدیث ۱۷: ابوالشیخ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''جب اَذان کہی جاتی ہے، آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور دُعا قبول ہوتی ہے، جب اِقامت کا وقت ہوتا ہے، دُعا رد نہیں کی جاتی۔'' (2) ابو داود و ترمذی کی روایت انھیں سے ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ''اَذان و اِقامت کے درمیان دُعا رد نہیں کی جاتی۔'' (3) 

    حدیث ۱۸: دارمی و ابو داود نے سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: دو دُعائیں رد نہیں ہوتیں یا بہت کم رد ہوتی ہیں، اَذان کے وقت اور جہاد کی شدّت کے وقت۔'' (4) 

    حدیث ۱۹: ابو الشیخ نے روایت کی کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''اے ابن عباس! اَذان کو نماز سے تعلق ہے، تو تم میں کوئی شخص اَذان نہ کہے مگر حالتِ طہارت میں۔'' (5) 

    حدیث ۲۰: ترمذی ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:
''لَا یُؤَذِّنُ اِلَّا مُتَوَضِّئٌ (6)
''کوئی شخص اَذان نہ دے مگر با وضو۔'' 

    حدیث ۲۱: بُخاری و ابو داود و ترمذی و نَسائی و ابن ماجہ و احمد جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ''جو اَذان سُن کر یہ دُعا پڑھے۔
    '' اَللّٰھُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلاۃِ الْقَائِمَۃِ اٰتِ (سَیِّدَنَا) مُحَمَّدَنِ الْوَسِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَاماً مَحْمُوْدَ نِ الَّذِیْ وَعَدْتَّہٗ ؕ ''
اس کے ليے میری شفاعت واجب ہوگئی۔'' (7)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''تاريخ بغداد''، باب الميم، ذکر من اسمہ موسی، رقم: ۶۹۹۵، ج۱۳، ص۳۹. 

2۔۔۔۔۔۔ ''کنزالعمال''، کتاب الأذان، کتاب الصلاۃ، الحدیث: ۲۰۹۱۰، ج۷، ص۲۷۹. 

3۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب ماجاء، في الدعاء بين الأذان و الإقامۃ، الحدیث: ۵۲۱، ج۱، ص۲۲۰. 

4۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الجہاد، باب الدعاء عند اللقاء، الحدیث:۲۵۴۰، ج۳، ص۲۹. 

5۔۔۔۔۔۔ ''کنزالعمال''، کتاب الصلاۃ، الحدیث: ۲۰۹۷۲، ج۷، ص۲۸۴. 

6۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصلاۃ، باب ماجاء في کراھیۃ الأذان بغير وضوء، الحدیث: ۲۰۰، ج۱، ص۲۴۳. 

7۔۔۔۔۔۔ ''صحيح البخاري''، کتاب التفسير،۱۱۔ باب ، الحدیث: ۴۷۱۹، ج۳، ص۲۶۲.
Flag Counter