یوں ہو گا کہ جنت کی اونٹنیوں پر سوار ہوں گے، ان کے آگے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوں گے سب کے سب بلند آواز سے اَذان کہتے ہوئے آئیں گے، لوگ ان کی طرف نظر کریں گے، پوچھیں گے یہ کون لوگ ہیں؟ کہا جائے گا، یہ اُمّت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مؤذن ہیں، لوگ خوف میں ہیں اور ان کو خوف نہیں لوگ غم میں ہیں، ان کو غم نہیں۔'' (1)
حدیث ۱۷: ابوالشیخ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''جب اَذان کہی جاتی ہے، آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور دُعا قبول ہوتی ہے، جب اِقامت کا وقت ہوتا ہے، دُعا رد نہیں کی جاتی۔'' (2) ابو داود و ترمذی کی روایت انھیں سے ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ''اَذان و اِقامت کے درمیان دُعا رد نہیں کی جاتی۔'' (3)
حدیث ۱۸: دارمی و ابو داود نے سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: دو دُعائیں رد نہیں ہوتیں یا بہت کم رد ہوتی ہیں، اَذان کے وقت اور جہاد کی شدّت کے وقت۔'' (4)
حدیث ۱۹: ابو الشیخ نے روایت کی کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ''اے ابن عباس! اَذان کو نماز سے تعلق ہے، تو تم میں کوئی شخص اَذان نہ کہے مگر حالتِ طہارت میں۔'' (5)
حدیث ۲۰: ترمذی ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: