آتا ہے، پھر جب اِقامت کہی جاتی ہے، بھاگ جاتا ہے، جب پوری ہو لیتی ہے، آجاتا ہے اور خطرہ ڈالتا ہے، کہتا ہے فلاں بات یاد کر فلاں بات یاد کر وہ جو پہلے یاد نہ تھی یہاں تک کہ آدمی کو یہ نہیں معلوم ہوتا کہ کتنی پڑھی۔'' (1)
حدیث ۴: صحیح مُسلِم میں جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''شیطان جب اَذان سنتا ہے، اتنی دور بھاگتا ہے، جیسے روحا اور روحا مدینہ سے چھتیس میل کے فاصلہ پر ہے۔'' (2)
حدیث ۵: طَبَرانی ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''اَذان دینے والا کہ طالبِ ثواب ہے، اس شہید کی مثل ہے کہ خون میں آلودہ ہے اور جب مرے گا، قبر میں اس کے بدن میں کیڑے نہیں پڑیں گے۔'' (3)
حدیث ۶: امام بُخاری اپنی تاریخ میں انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:جب مؤذن اَذان کہتا ہے، رب عزوجل اپنا دستِ قدرت اس کے سر پر رکھتا ہے اور یوہیں رہتا ہے، یہاں تک کہ اَذان سے فارغ ہو اور اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، جہاں تک آواز پہنچے جب وہ فارغ ہوتا ہے، رب عزوجل فرماتا ہے:'' میرے بندہ نے سچ کہا اور تو نے حق گواہی دی، لہٰذا تجھے بشارت ہو۔'' (4)
حدیث ۷: طَبَرانی صَغِیر میں انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''جس بستی میں اَذان کہی جائے، اﷲ تعالیٰ اپنے عذاب سے اس دن اسے امن دیتا ہے۔'' (5)
حدیث ۸: طَبَرانی معقل بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''جس قوم میں صبح کو اَذان ہوئی ان کے ليے اﷲ کے عذاب سے شام تک امان ہے اور جن میں شام کو اَذان ہوئی ان کے ليے اﷲ کے عذاب سے صبح تک امان ہے۔'' (6)
حدیث ۹: ابو یعلی مُسْند میں اُبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''میں جنت میں گیا، اس میں موتی کے گنبد دیکھے، اس کی خاک مشک کی ہے، فرمایا: ''اے جبریل! یہ کس کے ليے ہے؟ عرض کی، حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)