Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ سِوُم (3)
458 - 651
    امیر المومنین فاروقِ اعظم اور عبداﷲ بن زید بن عبد رَبِّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو اَذان خواب میں تعلیم ہوئی حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''یہ خواب حق ہے ''اور عبد اﷲ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: ''جاؤ بلال کو تلقین کرو، وہ اَذان کہیں کہ وہ تم سے زیادہ بلند آواز ہیں۔'' (1) اس حدیث کو ابو دادو ترمذی و ابن ماجہ و دارمی نے روایت کیا، رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم فرمایا: کہ ''اَذان کے وقت کانوں میں انگلیاں کر لو، کہ اس کے سبب آواز زیادہ بلند ہوگی۔'' (2) اس حدیث کو ابن ماجہ نے عبدالرحمن بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا۔ 

    اَذان کہنے کی بہت بڑی بڑی فضیلتیں احادیث میں مذکور ہیں، بعض فضائل ذکر کيے جاتے ہیں: 

    حدیث ۱: مُسلِم و احمد و ابن ماجہ معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''مؤذنوں کی گردنیں قیامت کے دن سب سے زیادہ دراز ہوں گی۔'' (3) علامہ عبدالرؤف مناوی تیسیر میں فرماتے ہیں، یہ حدیث متواتر ہے اور حدیث کے معنی یہ بیان فرماتے ہیں کہ مؤذن رحمتِ الٰہی کے بہت امیدوار ہوں گے کہ جس کو جس چیز کی امید ہوتی ہے، اس کی طرف گردن دراز کرتا ہے يا اس کے یہ معنی ہیں کہ ان کو ثواب بہت ہے اور بعضوں نے کہا یہ کنایہ ہے، اس سے کہ شرمندہ نہ ہوں گے اس ليے کہ جو شرمندہ ہوتا ہے، اس کی گردن جھک جاتی ہے۔ (4) 

    حدیث ۲ : امام احمد ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''مؤذن کی جہاں تک آواز پہنچتی ہے، اس کے ليے مغفرت کر دی جاتی ہے اور ہر تر و خشک جس نے اس کی آواز سنی اس کی تصدیق کرتا ہے۔'' (5) اور ایک روایت میں ہے کہ ''ہر تر و خشک جس نے آواز سنی اس کے ليے گواہی دے گا۔'' (6) دوسری روایت میں ہے، ''ہر ڈھیلا اور پتھر اس کے ليے گواہی دے گا۔ '' (7) 

    حدیث ۳: بُخاری و مُسلِم و مالک و ابو داود ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''جب اَذان کہی جاتی ہے، شیطان گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے، یہاں تک کہ اَذان کی آواز اسے نہ پہنچے، جب اَذان پوری ہو جاتی ہے، چلا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب کیف الأذان، الحدیث: ۴۹۹، ج۱، ص۲۱۰. 

2۔۔۔۔۔۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب الأذان، باب السنۃ في الأذان، الحدیث: ۷۱۰، ج۱، ص۳۹۵. 

3۔۔۔۔۔۔ ''صحيح مسلم''، کتاب الصلاۃ، باب فضل الأذان... إلخ، الحدیث: ۳۸۷، ص۲۰۴. 

4۔۔۔۔۔۔ ''التیسير'' شرح ''الجامع الصغير''، حرف الميم، تحت الحديث: ۹۱۳۶، ج۶، ص۳۱۳. 

5۔۔۔۔۔۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند أبي ہريرۃ، الحدیث: ۷۶۱۵، ج۳، ص۸۹. 

6۔۔۔۔۔۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند أبي ہريرۃ، الحدیث: ۹۵۴۶، ج۳، ص۴۲۰. 

7۔۔۔۔۔۔ ''کنزالعمال''، کتاب الصلاۃ، الحدیث: ۲۰۸۷۸، ج۷، ص۲۷۷، الحديث: ۲۰۹۱۳، ص۲۸۰.
Flag Counter