(۷) نماز عیدین سے پیشتر نفل مکروہ ہے، خواہ گھر ميں پڑھے يا عید گاہ و مسجد میں۔ (1) (عالمگیری، درمختار)
(۸) نما زعیدین کے بعدنفل مکروہ ہے، جب کہ عید گاہ یا مسجد میں پڑھے، گھرمیں پڑھنا مکروہ نہیں۔ (2) (عالمگیری، درمختار)
(۹) عرفات میں جو ظہر و عصر ملا کر پڑھتے ہیں، ان کے درمیان میں اور بعد میں بھی نفل و سنت مکروہ ہے۔ (3)
(۱۰) مزدلفہ میں جو مغرب و عشا جمع کيے جاتے ہیں، فقط ان کے درمیان میں نفل و سنت پڑھنا مکروہ ہے، بعدمیں مکروہ نہیں۔ (4) (عالمگیری، درمختار)
(۱۱) فرض کا وقت تنگ ہو تو ہر نماز یہاں تک کہ سنت فجر و ظہر مکروہ ہے۔ (5)
(۱۲) جس بات سے دل بٹے اور دفع کر سکتا ہو اسے بے دفع کيے ہر نماز مکروہ ہے مثلاً پاخانے یا پیشاب یا ریاح کا غلبہ ہو مگر جب وقت جاتا ہو تو پڑھ لے پھر پھیرے۔ (6) (عالمگیری وغیرہ) یوہیں کھانا سامنے آگیا اور اس کی خواہش ہوغرض کوئی ایسا امر درپیش ہو جس سے دل بٹے خشوع میں فرق آئے ان وقتوں میں بھی نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ (7) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۳۵: فجر اور ظہر کے پورے وقت اوّل سے آخر تک بلا کراہت ہیں۔ (8) (بحرالرائق) یعنی یہ نمازیں اپنے وقت کے جس حصے میں پڑھی جائیں اصلاً مکروہ نہیں۔