Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ سِوُم (3)
456 - 651
    مسئلہ ۳۳: فرض سے پیشتر سنت فجر شروع کرکے فاسد کر دی تھی اور اب فرض کے بعد اس کی قضا پڑھنا چاہتا ہے، یہ بھی جائز نہیں۔ (1) (عالمگیری) 

    (۲) اپنے مذہب کی جماعت کے ليے اِقامت ہوئی تو اِقامت سے ختم جماعت تک نفل و سنت پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، البتہ اگر نماز فجر قائم ہو چکی اور جانتا ہے کہ سنت پڑھے گا جب بھی جماعت مل جائے گی اگرچہ قعدہ میں شرکت ہو گی، تو حکم ہے کہ جماعت سے الگ اور دور سنت فجر پڑھ کر شریک جماعت ہو اور جو جانتا ہے کہ سنت میں مشغول ہو گا تو جماعت جاتی رہے گی اور سنت کے خیال سے جماعت ترک کی یہ ناجائز و گناہ ہے اور باقی نمازوں میں اگرچہ جماعت ملنا معلوم ہو سنتیں پڑھنا جائز نہیں۔ (2) (عالمگیری، درمختار) 

    (۳) نمازِ عصر سے آفتاب زرد ہونے تک نفل منع ہے ،نفل نما زشروع کرکے توڑ دی تھی اس کی قضا بھی اس وقت میں منع ہے اور پڑھ لی تو ناکافی ہے، قضا اس کے ذمہ سے ساقط نہ ہوئی۔ (3) (عالمگیری، درمختار) 

    (۴) غروب آفتاب سے فرض مغرب تک۔ (4) (عالمگیری، درمختار) مگر امام ابن الہمام نے دو رکعت خفیف کا استثنا فرمایا۔ (5) 

    (۵) جس وقت امام اپنی جگہ سے خطبۂ جمعہ کے ليے کھڑا ہوا اس وقت سے فرض جمعہ ختم ہونے تک نماز نفل مکروہ ہے، یہاں تک کہ جمعہ کی سنتیں بھی۔ (6) (درمختار) 

    (۶) عین خطبہ کے وقت اگرچہ پہلا ہو یا دوسرا اور جمعہ کا ہو یا خطبۂ عیدین یا کسوف و استسقا و حج و نکاح کا ہو ہر نماز حتیٰ کہ قضا بھی ناجائز ہے، مگر صاحب ترتیب کے ليے خطبۂ جمعہ کے وقت قضا کی اجازت ہے۔ (7) (درمختار) 

    مسئلہ ۳۴: جمعہ کی سنتیں شروع کی تھیں کہ امام خطبہ کے ليے اپنی جگہ سے اٹھا چاروں رکعتیں پوری کرلے۔ (8) (عالمگیری)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الأول في المواقيت، الفصل الثالث، ج۱، ص۵۳. 

2۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۴۸. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الأول في المواقيت، الفصل الثالث، ج۱، ص۵۳. 

4۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۴۶. 

5۔۔۔۔۔۔ ''فتح القدیر''، کتاب الصلاۃ، باب النوافل، ج۱، ص۳۸۹. 

6۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۴۷. 

7۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۴۸. 

8۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الأول في المواقيت، الفصل الثالث، ج۱، ص۵۳.
Flag Counter