مکروہ میں پڑھے اور اگر توڑی نہیں اور پڑھ لی تو فرض ساقط ہو جائے گا اور گناہگار ہوگا۔ (1) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۲۶: کسی نے خاص ان اوقات میں نماز پڑھنے کی نذر مانی یا مطلقاً نماز پڑھنے کی منت مانی، دونوں صورتوں میں ان اوقات میں اس نذر کا پورا کرنا جائز نہیں، بلکہ وقت کامل میں اپنی منت پوری کرے۔ (2) (درمختار، عالمگیری )
مسئلہ ۲۷: ان وقتوں میں نفل نماز شروع کی تو وہ نما زواجب ہوگئی، مگر اس وقت پڑھنا جائز نہیں، لہٰذا واجب ہے کہ توڑ دے اور وقت کامل میں قضا کرے اور اگر پوری کر لی تو گنہگار ہوا اور اب قضا واجب نہیں۔ (3) (غنیہ، درمختار)
مسئلہ ۲۸: جو نماز وقت مباح یا مکروہ میں شروع کرکے فاسد کر دی تھی، اس کو بھی ان اوقات میں پڑھنا ناجائز ہے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۲۹: ان اوقات میں تلاوتِ قرآن مجید بہتر نہیں، بہتر یہ ہے کہ ذکر و درود شریف میں مشغول رہے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۳۰: بارہ (۱۲) وقتوں میں نوافل پڑھنا منع ہے اور ان کے بعض یعنی ۶ و ۱۲ میں فرائض و واجبات و نمازِ جنازہ و سجدۂ تلاوت کی بھی ممانعت ہے۔
(۱) طلوع فجر سے طلوع آفتا ب تک کہ اس درمیان میں سوا دو رکعت سنت فجر کے کوئی نفل نماز جائز نہیں۔ (6)
مسئلہ ۳۱: اگر کوئی شخص طلوع فجر سے پیشتر (7) نماز نفل پڑھ رہا تھا، ایک رکعت پڑھ چکا تھا کہ فجر طلوع کر آئی تو دوسری بھی پڑھ کر پوری کرلے اور یہ دونوں رکعتیں سنت فجر کے قائم مقام نہیں ہو سکتیں ،اور اگر چار رکعت کی نیت کی تھی اور ایک رکعت کے بعد طلوع فجر ہوا اور چاروں رکعتیں پوری کر لیں تو پچھلی دو رکعتیں سنت فجر کے قائم مقام ہو جائیں گی۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: نمازِ فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک اگرچہ وقت وسیع باقی ہو اگرچہ سنت فجر فرض سے پہلے نہ پڑھی تھی اور اب پڑھنا چاہتا ہو، جائز نہیں۔ (9) (عالمگیری، ردالمحتار)