Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ سِوُم (3)
454 - 651
    مسئلہ ۲۱: عرفہ و مزدلفہ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں، کہ عرفہ میں ظہر و عصر وقت ظہر میں پڑھی جائیں اور مزدلفہ میں مغرب و عشا وقت عشا میں۔ (1) (عالمگیری) 

    اوقاتِ مکروہہ: طلوع و غروب و نصف النہار ان تینوں وقتوں میں کوئی نماز جائز نہیں نہ فرض نہ واجب نہ نفل نہ ادا نہ قضا، یوہیں سجدۂ  تلاوت و سجدۂ سہو بھی ناجائز ہے، البتہ اس روز اگر عصر کی نماز نہیں پڑھی تو اگرچہ آفتاب ڈوبتا ہو پڑھ لے ،مگر اتنی تاخیر کرنا حرام ہے ۔ حدیث میں اس کو منافق کی نماز فرمایا، طلوع سے مراد آفتاب کا کنارہ ظاہر ہونے سے اس وقت تک ہے کہ اس پر نگاہ خیرہ ہونے لگے جس کی مقدار کنارہ چمکنے سے ۲۰ منٹ تک ہے اور اس وقت سے کہ آفتاب پر نگاہ ٹھہرنے لگے ڈوبنے تک غروب ہے، یہ وقت بھی ۲۰ منٹ ہے، نصف النہار سے مراد نصف النہار شرعی سے نصف النہار حقیقی یعنی آفتاب ڈھلکنے تک ہے جس کو ضحوۂ کبریٰ کہتے ہیں یعنی طلوع فجر سے غروب آفتاب تک آج جو وقت ہے، اس کے برابر برابر دو حصے کریں، پہلے حصہ کے ختم پر ابتدائے نصف النہار شرعی ہے اور اس وقت سے آفتاب ڈھلنے تک وقت استوا و ممانعت ہر نماز ہے۔ (2) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار، فتاویٰ رضویہ) 

    مسئلہ ۲۲: عوام اگر صبح کی نماز آفتاب نکلنے کے وقت پڑھیں تو منع نہ کیا جائے۔ (3) (درمختار) 

    مسئلہ ۲۳: جنازہ اگر اوقاتِ ممنوعہ میں لایا گیا ،تو اسی وقت پڑھیں کوئی کراہت نہیں کراہت، اس صورت میں ہے کہ پیشتر سے طیار موجود ہے اور تاخیر کی یہاں تک کہ وقتِ کراہت آگیا۔ (4) (عالمگیری، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۲۴: ان اوقات میں آیت سجدہ پڑھی تو بہتر یہ ہے کہ سجدہ میں تاخیر کرے ،یہاں تک کہ وقتِ کراہت جاتا رہے اور اگر وقت مکروہ ہی میں کر لیا تو بھی جائز ہے اور اگر وقتِ غیر مکروہ میں پڑھی تھی تو وقتِ مکروہ میں سجدہ کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ (5) (عالمگیری)

    مسئلہ ۲۵: ان اوقات میں قضا نماز ناجائز ہے اور اگر قضا شروع کر لی تو واجب ہے کہ توڑ دے اور وقتِ غیر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الأول في المواقيت، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۲. 

2۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، الفصل الثالث، و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۳۷. 

و ''الفتاوی الرضویۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الأوقات، ج۵، ص۱۲۲. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۳۸ . 

مگر بعد نماز کہہ ديا جائے کہ نماز نہ ہوئی، آفتاب بلند ہونے کے بعد پھر پڑھيں۔ ۱۲ منہ 

4۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب: یشترط العلم بدخول الوقت، ج۲، ص۴۳. 

5۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الأول في المواقيت، الفصل الثالث، ج۱، ص۵۲.
Flag Counter