مسئلہ ۱۵: روز ابر (1) کے سوا مغرب میں ہمیشہ تعجیل (2) مستحب ہے اور دو رکعت سے زائد کی تاخیر مکروہِ تنزیہی اور اگر بغیر عذر سفر و مرض وغیرہ اتنی تاخیر کی کہ ستارے گُتھ گئے، تو مکروہ ِتحریمی۔ (3) (درمختار، عالمگيری، فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ ۱۶: عشا میں تہائی رات تک تاخیر مستحب ہے اور آدھی رات تک تاخیر مباح یعنی جب کہ آدھی رات ہونے سے پہلے فرض پڑھ چکے اور اتنی تاخیر کہ رات ڈھل گئی مکروہ ہے ،کہ باعثِ تقلیل جماعت ہے۔ (4) (بحر، درمختار)
مسئلہ ۱۷: نماز عشا سے پہلے سونا اور بعد نماز عشا دنیا کی باتیں کرنا، قصے کہانی کہنا سننا مکروہ ہے، ضروری باتیں اور تلاوت قرآن مجید اور ذکر اور دینی مسائل اور صالحین کے قصے اور مہمان سے بات چیت کرنے میں حرج نہیں، یوہیں طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک ذکرِ الٰہی کے سوا ہر بات مکروہ ہے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۸: جو شخص جاگنے پر اعتماد رکھتا ہو اس کو آخر رات میں وتر پڑھنا مستحب ہے، ورنہ سونے سے قبل پڑھ لے، پھر اگر پچھلے کو آنکھ کھلی تو تہجد پڑھے وتر کا اعادہ جائز نہیں۔ (6) (درمختار و ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: ابر کے دن عصر و عشا میں تعجیل مستحب ہے اور باقی نمازوں میں تاخیر۔ (7) (متون)
مسئلہ ۲۰: سفر وغیرہ کسی عذر کی وجہ سے دو نمازوں کا ایک وقت میں جمع کرنا حرام ہے، خواہ یوں ہو کہ دوسری کو پہلی ہی کے وقت میں پڑھے یا یوں کہ پہلی کو اس قدر مؤخر کرے کہ اس کا وقت جاتا رہے اور دوسری کے وقت میں پڑھے مگر اس دوسری صورت میں پہلی نماز ذمہ سے ساقط ہوگئی کہ بصورت قضا پڑھ لی اگرچہ نماز کے قضا کرنے کا گناہِ کبیرہ سر پر ہوا اور پہلی صورت میں تو دوسری نماز ہو گی ہی نہیں اور فرض ذمہ پر باقی ہے ۔ ہاں اگر عذر سفر و مرض وغیرہ سے صورۃً جمع کرے کہ پہلی کو اس کے آخر وقت میں اور دوسری کو اس کے اوّل وقت میں پڑھے کہ حقیقتاً دونوں اپنے اپنے وقت میں واقع ہوں تو کوئی حرج نہیں۔ (8) (عالمگیری مع زيادۃ التفصيل )