Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ سِوُم (3)
451 - 651
    مسئلہ ۳: شفق ہمارے مذہب میں اس سپیدی کا نام ہے، جو جانب مغرب میں سُرخی ڈوبنے کے بعد جنوباً شمالاً صبح صادق کی طرح پھیلی ہوئی رہتی ہے۔ (1) (ہدایہ، شرح وقایہ، عالمگیری، افاداتِ رضویہ) اور یہ وقت ان شہروں میں کم سے کم ایک گھنٹا اٹھارہ منٹ اور زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹا ۳۵ منٹ ہوتا ہے۔ (2) (فتاویٰ رضویہ) فقیر نے بھی بکثرت اس کا تجربہ کیا۔ 

    فائدہ: ہر روز کے صبح اور مغرب دونوں کے وقت برابر ہوتے ہیں۔ 

    وقت عشا و وتر: غروب سپیدی مذکور سے طلوع فجر تک ہے، اس جنوباً شمالاً پھیلی ہوئی سپیدی کے بعد جو سپیدی شرقاً غرباً طويل باقی رہتی ہے، اس کا کچھ اعتبار نہیں، وہ جانب شرق میں صبح کاذب کی مثل ہے۔ (3) 

    مسئلہ ۴: اگرچہ عشا و وتر کا وقت ایک ہے، مگر باہم ان میں ترتیب فرض ہے، کہ عشا سے پہلے وتر کی نماز پڑھ لی تو ہوگی ہی نہیں، البتہ بھول کر اگر وتر پہلے پڑھ ليے یا بعد کو معلوم ہوا کہ عشا کی نماز بے وضو پڑھی تھی اور وتر وضو کے ساتھ تو وتر ہوگئے۔ (4) (درمختار، عالمگیری) 

    مسئلہ ۵: جن شہروں میں عشا کا وقت ہی نہ آئے کہ شفق ڈوبتے ہی یا ڈوبنے سے پہلے فجر طلوع کر آئے (جیسے بلغار و لندن کہ ان جگہوں میں ہر سال چالیس راتیں ایسی ہوتی ہیں کہ عشا کا وقت آتا ہی نہیں اور بعض دنوں میں سیکنڈوں اور منٹوں کے ليے ہوتا ہے) تو وہاں والوں کو چاہیے کہ'' ان دنوں کی عشا و وتر کی قضا پڑھیں۔'' (5) (درمختار، ردالمحتار) 

    اوقات مستحبہ: فجر میں تاخیر مستحب ہے، یعنی اسفار میں (جب خوب اُجالا ہو یعنی زمین روشن ہو جائے) شروع کرے مگر ایسا وقت ہونا مستحب ہے، کہ چالیس سے ساٹھ آیت تک ترتیل کے ساتھ پڑھ سکے پھر سلام پھیرنے کے بعد اتنا وقت باقی رہے ،کہ اگر نماز میں فساد ظاہر ہو تو طہارت کرکے ترتیل کیساتھ چالیس سے ساٹھ آیت تک دوبارہ پڑھ سکے اور اتنی تاخیر مکروہ ہے کہ طلوع آفتاب کا شک ہو جائے۔ (6) (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الھدایۃ''، کتاب الصلاۃ، باب المواقیت، ج۱، ص۴۰. 

2۔۔۔۔۔۔ الفتاوی الرضویۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الأوقات، ج۵، ص۱۵۳. 

3۔۔۔۔۔۔ الفتاوی الرضویۃ''، کتاب الصلاۃ، باب الأوقات، ج۵، ص۱۵۳. 

4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الأول في المواقیت، الفصل الأول، ج۱، ص۵۱. 

و ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۲۳. 

5۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب فی فاقدوقت العشاء کأھل بلغار، ج۲، ص۲۴. 

6۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب في طلوع الشمس من مغربہا، ج۲، ص۳۰. 

و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الأول في المواقیت، الفصل الثاني، ج۱، ص۵۱.
Flag Counter