وقت ظہر و جمعہ: آفتاب ڈھلنے سے اس وقت تک ہے، کہ ہر چیز کا سایہ علاوہ سایہ اصلی کے دو چند ہو جائے۔ (1) (متون)
فائدہ: ہر دن کا سایہ اصلی وہ سایہ ہے، کہ اس دن آفتاب کے خط نصف النہار پر پہنچنے کے وقت ہوتا ہے اور وہ موسم اور بلاد کے مختلف ہونے سے مختلف ہوتا ہے، دن جتنا گھٹتا ہے، سایہ بڑھتا جاتا ہے اور دن جتنا بڑھتا ہے، سایہ کم ہوتا جاتا ہے، یعنی جاڑوں (2) میں زیادہ ہوتا ہے اور گرمیوں میں کم اور ان شہروں میں کہ خطِ استوا کے قرب میں واقع ہیں،کم ہوتا ہے، بلکہ بعض جگہ بعض موسم میں بالکل ہوتا ہی نہیں جب آفتاب بالکل سمت راس (3) پر ہوتا ہے، چنانچہ موسم سرما ماہِ دسمبر میں ہمارے ملک کے عرض البلد پر کہ ۲۸ درجہ کے قریب پر واقع ہے، ساڑھے آٹھ قدم سے زائد یعنی سوائے کے قریب سایہ اصلی ہو جاتا ہے اور مکۂ معظمہ میں جو ۰۲۱ درجہ پر واقع ہے، ان دنوں میں سات قدم سے کچھ ہی زائد ہوتا ہے، اس سے زائد پھر نہیں ہوتا اسی طرح موسم گرما میں مکۂ معظمہ میں ۲۷ مئی سے ۳۰ مئی تک دوپہر کے وقت بالکل سایہ نہیں ہوتا، اس کے بعد پھر وہ سایہ الٹا ظاہر ہوتا ہے، یعنی سایہ جو شمال کو پڑتا تھا، اب مکۂ معظمہ میں جنوب کو ہوتا ہے اور ۲۲ جون تک پاؤ قدم تک بڑھ کر پھر گھٹتا ہے، یہاں تک کہ پندرہ جولائی سے اٹھارہ جولائی تک پھر معدوم ہو جاتا ہے، اس کے بعد پھر شمال کی طرف ظاہر ہوتا ہے اور ہمارے ملک میں نہ کبھی جنوب میں پڑتا ہے، نہ کبھی معدوم ہوتا بلکہ سب سے کم سایہ ۲۲ جون کو نصف قدم باقی رہتا ہے۔ (از افاداتِ رضویہ)
فائدہ: آفتاب ڈھلنے کی پہچان یہ ہے کہ برابر زمین میں ہموار لکڑی اس طرح سیدھی نصب کریں کہ مشرق یا مغرب کو اصلاً جھکی نہ ہو آفتاب جتنا بلند ہوتا جائے گا، اس لکڑی کا سایہ کم ہوتا جائے گا، جب کم ہونا موقوف ہو جائے، تو اس وقت خط نصف النہار پر پہنچا اور اس وقت کا سایہ سایۂ اصلی ہے، اس کے بعد بڑھنا شروع ہوگا اور یہ دلیل ہے، کہ خط نصف النہار سے متجاوز ہوا اب ظہر کا وقت ہوا یہ ایک تخمینہ ہے اس ليے کہ سایہ کا کم و بیش ہونا خصوصاً موسم گرما میں جلد متمیز نہیں ہوتا، اس سے بہتر طریقہ خط نصف النہار کا ہے کہ ہموار زمین میں نہایت صحیح کمپاس سے سوئی کی سیدھ پر خط نصف النہار کھینچ دیں اور ان ملکوں میں اس خط کے جنوبی کنارے پر کوئی مخروطی شکل کی نہایت باریک نوک دار لکڑی خوب سیدھی نصب کریں کہ شرق یا غرب کو اصلاً نہ جھکی ہو ،اور وہ خط نصف النہار اس کے قاعدے کے عین وسط میں ہو۔ جب اس کی نوک کا سایہ اس خط پر منطبق ہو ٹھیک دوپہر ہوگیا، جب بال برابر پورب کو جھکے دوپہر ڈھل گیا، ظہر کا وقت آگیا ۔