آسمان کے کنارے میں دکھائی دیتی ہے اور بڑھتی جاتی ہے، یہاں تک کہ تمام آسمان پر پھیل جاتی اور زمین پر اجالا ہو جاتا ہے اور اس سے قبل بیچ آسمان میں ایک دراز سپیدی ظاہر ہوتی ہے، جس کے نیچے سارا اُفق سیاہ ہوتا ہے، صبح صادق اس کے نیچے سے پھوٹ کر جنوباً شمالاً دونوں پہلوؤں پر پھیل کر اوپر بڑھتی ہے، یہ دراز سپیدی اس میں غائب ہو جاتی ہے، اس کو صبح کاذب کہتے ہیں، اس سے فجر کا وقت نہیں ہوتا یہ جو بعض نے لکھا کہ صبح کاذب کی سپیدی جاکر بعد کو تاریکی ہو جاتی ہے، محض غلط ہے، صحیح وہ ہے جو ہم نے بیان کیا۔
مسئلہ ۲: مختار یہ ہے کہ نماز فجر میں صبح صادق کی سپیدی چمک کر ذرا پھیلنی شروع ہو اس کا اعتبار کیا جائے اور عشا اور سحری کھانے میں اس کے ابتدائے طلوع کا اعتبار ہو۔ (1) (عالمگیری)
فائدہ: صبح صادق چمکنے سے طلوع آفتاب تک ان بلاد (2) میں کم از کم ایک گھنٹا اٹھارہ منٹ ہے اور زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹا پینتیس (۳۵) منٹ نہ اس سے کم ہو گا نہ اس سے زیادہ، اکیس (۲۱) مارچ کو ایک گھنٹا اٹھارہ منٹ ہوتا ہے، پھر بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ ۲۲ جون کو پورا ایک گھنٹا ۳۵ منٹ ہوجاتا ہے پھر گھٹنا شروع ہوتا ہے، یہاں تک کہ (۲۲) ستمبر کو ایک گھنٹا ۱۸ منٹ ہو جاتا ہے، پھر بڑھتا ہے، یہاں تک کہ ۲۲ دسمبر کو ایک گھنٹا ۲۴ منٹ ہو تاہے، پھر کم ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ ۲۱ مارچ کو وہی ایک گھنٹا اٹھارہ منٹ ہو جاتا ہے، جو شخص وقت صحیح نہ جانتا ہو اسے چاہيے کہ گرمیوں میں ایک گھنٹا ۴۰ منٹ باقی رہنے پر سحری چھوڑ دے خصوصاً جون جولائی میں اور جاڑوں میں ڈیڑھ گھنٹا رہنے پر خصوصاً دسمبر جنوری میں اورمارچ و ستمبر کے اواخرمیں جب دن رات برابر ہوتا ہے، تو سحری ایک گھنٹا چوبيس منٹ پر چھوڑ ے اور سحری چھوڑنے کا جو وقت بیان کیا گیا اس کے آٹھ دس منٹ بعد اَذان کہی جائے تاکہ سحری اور اَذان دونوں طرف احتیاط رہے، بعض ناواقف آفتاب نکلنے سے دو پونے دو گھنٹے پہلے اَذان کہہ دیتے ہیں پھر اسی وقت سنت بلکہ فرض بھی بعض دفعہ پڑھ لیتے ہیں، نہ یہ اَذان ہو نہ نماز، بعضوں نے رات کا ساتواں حصہ وقتِ فجر سمجھ رکھا ہے یہ ہرگز صحیح نہیں ماہِ جون و جولائی میں جب کہ دن بڑا ہوتا ہے اور رات تقریباً دس گھنٹے کی ہوتی ہے، ان دنوں تو البتہ وقت صبح رات کا ساتواں حصہ یا اس سے چند منٹ پہلے ہو جاتا ہے، مگر دسمبر جنوری میں جب کہ رات چودہ گھنٹے کی ہوتی ہے، اسوقت فجر کا وقت نواں حصہ بلکہ اس سے بھی کم ہو جاتا ہے۔ ابتدائے وقت فجر کی شناخت دشوار ہے، خصوصاً جب کہ گرد و غبار ہو یا چاندنی رات ہو لہٰذا ہمیشہ طلوع آفتاب کا خیال رکھے کہ آج جس وقت طلوع ہوا دوسرے دن اسی حساب سے وقت متذکرۂ بالا (3) کے اندر اندر اَذان و نماز فجر ادا کی جائے۔ (از افاداتِ رضویہ)