دوسری روایت انھیں سے ہے کہ'' جو فجر کو روشن کرکے پڑھے گا اﷲ تعالیٰ اس کی قبر اور قلب کو منور کریگا اور اس کی نماز قبول فرمائے گا۔ '' (1)
حدیث ۵: طَبَرانی اَوسَط میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں:'' میری امت ہمیشہ فطرت یعنی دینِ حق پر رہے گی، جب تک فجر کو اجالے میں پڑھے گی۔ '' (2)
حدیث ۶: امام احمد و ترمذی ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''نماز کے ليے اوّل و آخر ہے، اوّل وقت ظہر کا اس وقت ہے کہ آفتاب ڈھل جائے اور آخر اس وقت کہ عصرکاوقت آجائے اور آخر وقت عصر کا اس وقت کہ آفتاب کا قرص زرد ہوجائے ،اور اول وقت مغرب کا اس وقت کہ آفتاب ڈوب جائے اور اس کا آخر وقت جب شفق ڈوب جائے اور اول وقت عشا جب شفق ڈوب جائے اور آخر وقت جب آدھی رات ہوجائے۔'' (3) (يعنی وقت مباح بلا کراہت)۔
حدیث ۷: بُخاری و مُسلِم ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''ظہر کو ٹھنڈا کرکے پڑھو کہ سخت گرمی جہنم کے جوش سے ہے۔ دوزخ نے اپنے رب کے پاس شکایت کی کہ میرے بعض اجزا بعض کو کھائے لیتے ہیں اسے دو مرتبہ سانس کی اجازت ہوئی ایک جاڑے میں ایک گرمی میں۔'' (4)
حدیث ۸: صحیح بُخاری شریف باب الاذان للمسافرین میں ہے، ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، ہم رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، مؤذن نے اَذان کہنی چاہی، فرمایا: ''ٹھنڈا کر''، پھر قصد کیا، فرمایا: ''ٹھنڈا کر ''، پھر ارادہ کیا، فرمایا: ''ٹھنڈا کر، یہا ں تک کہ سایہ ٹیلوں کے برابر ہو گیا۔'' (5)
حدیث ۹ و ۱۰: امام احمد و ابو داود، ابو ایوب و عقبہ بن عامررضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''میری امت ہمیشہ فطرت پر رہے گی، جب تک مغرب میں اتنی تاخیر نہ کریں کہ ستارے گُتھ جائیں۔'' (6)
حدیث ۱۱: ابو داود نے عبدالعزیز بن رفیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ''دن کی نماز