| بہارِشریعت حصّہ سِوُم (3) |
مسئلہ ۵: نابالغ نے وقت میں نماز پڑھی تھی اور اب آخر وقت میں بالغ ہوا، تو اس پر فرض ہے کہ اب پھر پڑھے یوہیں اگر معاذ اﷲ کوئی مرتد ہو گیا پھر آخر وقت میں اسلام لایا اس پر اس وقت کی نماز فرض ہے، اگرچہ اوّل وقت میں قبل ار تداد نماز پڑھ چکا ہو۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۶: نابالغ عشا کی نماز پڑھ کر سویا تھا اس کو احتلام ہوا اور بیدار نہ ہوا یہاں تک کہ فجر طلوع ہونے کے بعد آنکھ کھلی تو عشا کا اعادہ کرے اور اگر طلوع فجر سے پیشتر آنکھ کھلی تو اس پر عشا کی نماز بالاجماع فرض ہے۔ (2) (بحرالرائق)
مسئلہ ۷: کسی نے اوّل وقت میں نماز نہ پڑھی تھی اور آخر وقت میں کوئی ایسا عذر پیدا ہو گیا، جس سے نماز ساقط ہو جاتی ہے مثلاً آخر وقت میں حیض و نفاس ہو گیا یا جنون یا بے ہوشی طاری ہوگئی تو اس وقت کی نماز معاف ہوگئی، اس کی قضا بھی ان پر نہیں ہے، مگر جنون و بے ہوشی میں شرط ہے کہ علی الاتصال (3) پانچ نمازوں سے زائد کو گھیر لیں، ورنہ قضا لازم ہوگی۔ (4) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: یہ گمان تھا کہ ابھی وقت نہیں ہوا نماز پڑھ لی بعد نماز معلوم ہوا کہ وقت ہو گیا تھا نماز نہ ہوئی۔ (5) (درمختار)نماز کے وقتوں کا بیان
قال اﷲ تعالیٰ:
(اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ کِتٰبًا مَّوْقُوۡتًا ﴿۱۰۳﴾ ) (6)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ = ہوئی يعنی حيض ميں دس دن سے پہلے اور نفاس ميں چاليس دن سے پہلے تو اتنا وقت درکار ہے کہ غسل کرکے کپڑے پہن کر اﷲ اکبر کہہ سکے غسل کرسکنے ميں مقدمات غسل، پانی لانا، کپڑے اُتارنا، پردہ کرنا بھی داخل ہيں۔ (ردالمحتار) ۱۲ منہ ۔ 1۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۱۵. 2۔۔۔۔۔۔ ''البحرالرائق''، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، ج۲، ص۱۵۹. 3۔۔۔۔۔۔ لگاتار۔ ''بہارِ شريعت'' حصہ ۴، ''نمازِ مريض کا بيان'' ميں ہے: اگر کسی وقت ہوش ہوجاتا ہے تو اس کا وقت مقرر ہے يا نہيں اگر وقت مقرر ہے اور اس سے پہلے پورے چھ وقت نہ گزرے تو قضا واجب اور وقت مقرر نہ ہو بلکہ دفعتہ ہوش ہوجاتا ہے پھر وہی حالت پيدا ہوجاتی ہے تو اس افاقہ کا اعتبار نہيں يعنی سب بیہوشياں متصل سمجھی جائيں گی۔ (عالمگیری، درمختار) 4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصلاۃ، ج۱، ص۵۱. و ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، مطلب فيما يصير الکافر بہ مسلما من الأفعال، ج۲، ص۱۴. 5۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۳۶. 6۔۔۔۔۔۔ پ۵، النسآء: ۱۰۳.