| بہارِشریعت حصّہ سِوُم (3) |
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ ؕ
نَماز کا بیان
ایمان و تصحیح عقائد مطابق مذہب اہل سنت و جماعت کے بعد نماز تمام فرائض میں نہایت اہم واعظم ہے۔ قرآن مجید و احادیث نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم اس کی اہمیت سے مالا مال ہیں ،جا بجا اس کی تاکید آئی اور اس کے تارکین (1) پر وعید فرمائی، چند آیتیں اور حدیثیں ذکر کی جاتی ہیں، کہ مسلمان اپنے رب عزوجل اور پیارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ارشادات سنیں اور اس کی توفیق سے ان پر عمل کریں۔
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
ہُدًی لِّلْمُتَّقِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الَّذِیۡنَ یُؤْمِنُوۡنَ بِالْغَیۡبِ وَیُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ۙ﴿۳﴾ ) (2)
یہ کتاب پرہیز گاروں کو ہدایت ہے، جو غیب پر ایمان لاتے اور نماز قائم رکھتے اور ہم نے جو دیا اس میں سے ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں۔
اور فرماتا ہے:( وَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَارْکَعُوۡا مَعَ الرَّاکِعِیۡنَ ﴿۴۳﴾) (3)
نماز قائم کرو اور زکاۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ نماز پڑھو۔
یعنی مسلمانوں کے ساتھ کہ رکوع ہماری ہی شریعت میں ہے۔ يا باجماعت ادا کرو۔
اور فرماتا ہے:(حَافِظُوۡا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی ٭ وَقُوۡمُوۡا لِلہِ قٰنِتِیۡنَ ﴿۲۳۸﴾ ) (4)
تمام نمازوں خصوصاً بیچ والی نماز (عصر) کی محافظت رکھو اور اﷲ کے حضور ادب سے کھڑے رہو۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ تارِک کی جمع، چھوڑنے والے۔ 2۔۔۔۔۔۔ پ۱، البقرۃ: ۳. 3۔۔۔۔۔۔ پ۱، البقرۃ: ۴۳. 4۔۔۔۔۔۔ پ۲، البقرۃ: ۲۳۸.