گوشت پاک ہو گیا اگرچہ کھانا حرام ہے سوا خنز یر کے کہ وہ نجس العین ہے کسی طرح پاک نہیں ہو سکتا) حرام چوپائے جیسے کتا، شیر، لومڑی، بلّی، چوہا، گدھا، خچر، ہاتھی، سوئر کا پاخانہ، پیشاب اور گھوڑے کی لِید اور ہر حلال چوپایہ کا پاخانہ جیسے گائے بھینس کا گوبر، بکری اونٹ کی مینگنی اور جو پرند کہ اونچا نہ اُڑے اس کی بِیٹ، جیسے مر غی ا ور بَط چھوٹی ہو خواہ بڑی اور ہر قسم کی شراب اور نشہ لانے والی تاڑی اور سیندھی اور سانپ کا پاخانہ پیشاب اور اُس جنگلی سانپ اور مینڈک کا گوشت جن میں بہتا خون ہوتا ہے اگرچہ ذبح کیے گئے ہوں۔ یوہیں ان کی کھال اگرچہ پکالی گئی ہو اور سُوئر کا گوشت اور ہڈّی اور بال اگرچہ ذبح کیا گیا ہو یہ سب نَجاستِ غلیظہ ہیں۔
مسئلہ ۱۳: چھپکلی یا گرگٹ کا خون نَجاستِ غلیظہ ہے۔
مسئلہ ۱۴: انگور کا شِیرہ کپڑے پر پڑا تو اگرچہ کئی دن گزر جائیں کپڑا پاک ہے۔
مسئلہ ۱۵: ہاتھی کے سُونڈ کی رطوبت اور شیر، کتّے، چیتے اور دوسرے درندے چوپایوں کا لُعاب نَجاستِ غلیظہ ہے۔ (1)
مسئلہ ۱۶: جن جانوروں کا گوشت حلال ہے(جیسے گائے، بیل، بھینس، بکری، اونٹ وغیرہا) ان کا پیشاب نیز گھوڑے کا پیشاب اور جس پرند کا گوشت حرام ہے، خواہ شکاری ہو یا نہیں، (جیسے کوّا، چیل، شِکرا، باز، بہری) اس کی بِیٹ نَجاستِ خفیفہ ہے۔ (2)
مسئلہ ۱۷: چمگادڑ کی بیٹ اور پیشاب دونوں پاک ہیں۔ (3)
مسئلہ ۱۸: جو پرند حلال اُونچے اُڑتے ہیں جیسے کبوتر، مینا، مرغابی، قاز ،ان کی بیٹ پاک ہے۔ (4)
مسئلہ ۱۹: ہر چوپائے کی جگالی کا وہی حکم ہے جو اس کے پاخانہ کا۔ (5)
مسئلہ ۲۰: ہر جانور کے پِتّے کا وہی حکم ہے جو اس کے پیشاب کا، حرام جانوروں کا پتّا نَجاستِ غلیظہ اور حلال کا