Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
366 - 432
    مسئلہ ۱۵: ایک موزہ چند جگہ کم سے کم اتنا پھٹ گیا ہو کہ اس میں سو تالی جاسکے اور ان سب کا مجموعہ تین انگل سے کم ہے تو مسح جائز ہے ورنہ نہیں۔ (1) 

    مسئلہ ۱۶: ٹخنے سے اوپر کتنا ہی پھٹا ہو اس کا اعتبار نہیں۔ (2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الخامس في المسح علی الخفین، الفصل الأول، ج۱، ص۳۴.

2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الخامس في المسح علی الخفین، الفصل الأول، ج۱، ص۳۴.

3۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۳۳.         

4۔۔۔۔۔۔ ''غنیۃ المتملي''، فصل في مسح علی الخفین، ص۱۱۰.

5۔۔۔۔۔۔ ''مراقی الفلاح شرح نور الإیضاح''، کتاب الطہارۃ، باب المسح علی الخفین، ص۳۱.

6۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الخامس في المسح علی الخفین، ج۱، ص۳۲.

7۔۔۔۔۔۔ ''غنیۃ المتملي''، فصل في مسح علی الخفین، ص۱۰۹.
مسح کا طریقہ:
 یہ ہے کہ دہنے ہاتھ کی تین انگلیاں ،دہنے پاؤں کی پُشت کے سرے پر اور بائیں ہاتھ کی انگلیاں بائیں پاؤں کی پُشت کے سرے پر رکھ کر پنڈلی کی طرف کم سے کم بقدر تین انگل کے کھینچ لی جائے اور سنّت یہ ہے کہ پنڈلی تک پہنچائے۔ (3) 

    مسئلہ ۱۷: انگلیوں کا تر ہونا ضروری ہے ،ہاتھ دھونے کے بعد جو تری باقی رہ گئی اس سے مسح جائز ہے اور سر کا مسح کیا اور ہنوز ہاتھ میں تری موجود ہے تو یہ کافی نہیں بلکہ پھر نئے پانی سے ہاتھ تر کرلے کچھ حصہ ہتھیلی کا بھی شامل ہو تو حَرَج نہیں۔ (4) 

    مسئلہ ۱۸: مسح میں فرض د و ہیں: 

    (۱) ہر موزہ کا مسح ہاتھ کی چھوٹی تین انگلیوں کے برابر ہونا ۔

    (۲) موزے کی پِیٹھ پر ہونا(5) ۔ 

    مسئلہ ۱۹: ایک پاؤں کا مسح بقدر دو انگل کے کیا اور دوسرے کا چار انگلتو مسح نہ ہوا۔ 

    مسئلہ ۲۰: موزے کے تلے یا کروٹوں یا ٹخنے یا پنڈلی یا ایڑی پر مسح کیا تو مسح نہ ہوا۔

    مسئلہ ۲۱: پوری تین انگلیوں کے پیٹ سے مسح کرنا اور پنڈلی تک کھینچنا اور مسح کرتے وقت انگلیاں کھلی رکھنا سنّت ہے۔ (6) 

    مسئلہ ۲۲: انگلیوں کی پُشت سے مسح کیا یاپنڈلی کی طرف سے انگلیوں کی طرف کھینچا، یا موزے کی چوڑائی کا مسح کیا یا انگلیاں ملی ہوئی رکھیں یا ہتھیلی سے مسح کیا تو ان سب صورتوں میں مسح ہوگیا مگر سنّت کے خلاف ہوا۔ (7)
Flag Counter