Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16)
460 - 660
بَرَکاتُہ، پر سلام کا خاتمہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد اور الفاظ زیادہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ (1) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۴: جواب میں واؤ ہونا یعنی وَعَلَیْکُمُ السَّلامْ کہنا بہتر ہے اور اگر صرف عَلَیْکُمُ السَّلامْ بغیر واؤ کہا یہ بھی ہوسکتا ہے اور اگر جواب میں اس نے بھی وہی السَّلامُ عَلَیْکُمْ کہہ دیا تو اس سے بھی جواب ہوجائے گا۔ (2) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۵: اگرچہ سَلامٌ عَلَیْکُمْ بھی سلام ہے مگر یہ لفظ شیعوں میں اس طرح جاری ہے کہ اس کے کہنے سے سننے والے کا ذہن فوراً اس کی طرف منتقل ہوتا ہے، کہ یہ شخص شیعی ہے، لہٰذا اس سے بچنا ضروری ہے۔ 

    مسئلہ ۶: سلام کا جواب فوراً دینا واجب ہے، بلاعذر تاخیر کی تو گنہگار ہوا اور یہ گناہ جواب دینے سے دفع نہ ہوگا، بلکہ توبہ کرنی ہوگی۔(3) (درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۷: جن لوگوں کو اس نے سلام کیا ان میں سے کسی نے جواب نہ دیا، بلکہ کسی اور نے جو اس مجلس سے خارج تھا جواب دیا تو یہ جواب اہلِ مجلس کی طرف سے نہیں ہوا یعنی وہ لوگ بریئ الذمہ نہ ہوئے۔ (4) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۸: ایک جماعت دوسری جماعت کے پاس آئی اور کسی نے سلام نہ کیا تو سب نے سنت کو ترک کیا، سب پر الزام ہے(5) اور اگر ان میں سے ایک نے سلام کر لیا تو سب بری ہوگئے اور افضل یہ ہے کہ سب ہی سلام کریں۔ یوہیں اگر ان میں سے کسی نے جواب نہ دیا تو سب گنہگار ہوئے اور اگر ایک نے جواب دے دیا تو سب بری ہوگئے اور افضل یہ ہے کہ سب جواب دیں۔ (6) (عالمگیری) 

مسئلہ ۹: ایک شخص مجلس میں آیا اور اس نے سلام کیا اہلِ مجلس پر جواب دینا واجب ہے اور دوبارہ پھر سلام کیا توجواب دینا واجب نہیں۔ مجلس میں آکر کسی نے السلام علیک کہا یعنی صیغہ واحد بولا اور کسی ایک شخص نے جواب دے دیا تو جواب ہوگیا خاص اس کو جواب دینا واجب نہیں جس کی طرف اس نے اشارہ کیا ہے۔ ہاں اگر اس نے کسی شخص کا نام لے کر سلام کیا کہ فلاں صاحب السلام علیک تو خاص اس شخص کو جواب دینا ہوگا، دوسرے کا جواب اس کے جواب کے قائم مقام نہیں ہوگا۔ (7) (خانیہ، عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۰: اہلِ مجلس پر سلام کیا ان میں سے کسی نابالغ عاقل نے جواب دے دیا تو یہ جواب کافی ہے اور بڑھیا نے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السابع في السلام،ج۵،ص۳۲۴،۳۲۵.

2۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۸۳. 

4۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۸۲.

5۔۔۔۔۔۔ یعنی سب گنہگار ہوں گے۔ 

6۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السابع في السلام،ج۵،ص۳۲۵.

7۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في التسبیح والتسلیم،ج۲،ص۳۷۷.

و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السابع في السلام،ج۵،ص۳۲۵.
Flag Counter