| بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16) |
حدیث ۲۵: ترمذی میں بروایت عَمْرْوبن شعیب عن ابیہ عن جدہ ہے کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص ہمارے غیر کے ساتھ تَشَبُّہ(1)کرے، وہ ہم میں سے نہیں۔ یہودو نصاریٰ کے ساتھ تَشَبُّہ نہ کرو، یہودیوں کا سلام انگلیوں کے اشارے سے ہے اور نصاریٰ کا سلام ہتھیلیوں کے اشارے سے ہے۔''(2)
حدیث ۲۶: ابو داود و ترمذی نے ابوجری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں: میں نے حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ کہا علیک السلام یارسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)۔ میں نے دو مرتبہ کہا، حضور ( صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''علیک السلام نہ کہو، علیک السلام مردہ کی تحیت ہے، السلام علیک کہا کرو۔''(3)مسائل فقہیہ
سلام کرنے میں یہ نیت ہو کہ اس کی عزت و آبرو اور مال سب کچھ اس کی حفاظت میں ہے، ان چیزوں سے تعرض کرنا حرام ہے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱: صرف اسی کو سلام نہ کرے جس کو پہچانتا ہو، بلکہ ہر مسلمان کو سلام کرے چاہے پہچانتا ہو یا نہ پہچانتا ہو۔ بلکہ بعض صحابہ کرام اسی ارادہ سے بازار جاتے تھے کہ کثرت سے لوگ ملیں گے اور زیادہ سلام کرنے کا موقع ملے گا۔
مسئلہ ۲: اس میں اختلاف ہے کہ افضل کیا ہے سلام کرنا یا جواب دینا کسی نے کہا جواب دینا افضل ہے کیونکہ سلام کرنا سنت ہے اور جواب دینا واجب۔ بعض نے کہا کہ سلام کرنا افضل ہے کہ اس میں تواضع ہے جواب تو سبھی دے دیتے ہیں مگر سلام کرنے میں بعض مرتبہ بعض لوگ کسر شان (5)سمجھتے ہیں۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: ایک شخص کو سلام کرے تو اس کے لیے بھی لفظ جمع ہونا چاہیے یعنیاَلسَّلامُ عَلَیْکُمْ
کہے اور جواب دینے والا بھی
وَعَلَیْکُمُ السَّلام
کہے بجائے
عَلَیْکُمْ عَلَیْکَ
نہ کہے اور دو یا دو سے زیادہ کو سلام کرے جب بھی عَلَیْکُمْ کہے اور بہتر یہ ہے کہ سلام میں رحمت و برکت کا بھی ذکر کرے یعنی
اَلسَّلامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکاتُہٗ
کہے اور جواب دینے والا بھی وہی کہے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ یعنی مشابہت کرے۔ 2۔۔۔۔۔۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الإستئذان...إلخ،باب ماجاء في کراھیۃ إشارۃ الید بالسلام،الحدیث:۲۷۰۴،ج۴،ص۳۱۹. 3۔۔۔۔۔۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الإستئذان...إلخ،باب ماجاء في کراھیۃ أن یقول...إلخ،الحدیث:۲۷۳۰،۲۷۳۱،ج۴،ص۳۳۱. 4۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۸۲. 5۔۔۔۔۔۔ یعنی خلافِ شان۔ 6۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السابع في السلام،ج۵،ص۳۲۴،۳۲۵.