| بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16) |
رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بھی مروی ہے، کہ ''اہلِ کتاب سلام کریں تو ان کے جواب میں وعلیکم کہہ دو۔'' (1)
حدیث ۲۲: صحیح بخاری و مسلم میں ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ''راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔ لوگوں نے عرض کی، یا رسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)!ہمیں راستہ میں بیٹھنے سے چارہ نہیں، ہم وہاں آپس میں بات چیت کرتے ہیں۔ فرمایا:جب تم نہیں مانتے اور بیٹھنا ہی چاہتے ہو تو راستہ کا حق ادا کرو۔لوگوں نے عرض کی، راستہ کا حق کیا ہے؟ فرمایاکہ ''نظر نیچی رکھنا اور اذیت کو دور کرنا اور سلام کا جواب دینا اور اچھی بات کا حکم کرنا اور بری باتوں سے منع کرنا۔''(2)
دوسری روایت میں ہے اور راستہ بتانا۔(3)ایک اور روایت میں ہے فریاد کرنے والے کی فریاد سننا اور بھولے ہوئے کو ہدایت کرنا ۔ (4)
حدیث ۲۳: شرح سنہ میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے ، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''راستوں کے بیٹھنے میں بھلائی نہیں ہے، مگر اس کے لیے جو راستہ بتائے اور سلام کا جواب دے اور نظر نیچی رکھے اور بوجھ لادنے پر مددکرے۔''(5)
حدیث ۲۴: ترمذی وابو داود نے عمران بن حصین رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ ایک شخص نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں آیا اورالسَّلامُ عَلَیْکُمْ
کہا۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے اسے جواب دیا وہ بیٹھ گیا۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ارشاد فرمایا:اس کے لیے دس یعنی دس نیکیاں ہیں۔ پھر دوسرا آیا اور
السَّلامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہ
کہا۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے جواب دیا وہ بیٹھ گیا۔ ارشاد فرمایا: اس کے لیے بیس۔ پھر تیسرا شخص آیا اور
السَّلامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اﷲوَبَرَکَاتُہ
کہا اس کو جواب دیا اور یہ بھی بیٹھ گیا حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''اس کے لیے تیس۔''(6)اور معاذ بن انس(رضی اللہ تعالٰی عنہ ) کی روایت میں ہے، کہ پھر ایک شخص آیا اس نے کہا
السَّلامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اﷲ وَبَرَکَاتُہٗ وَ مَغْفِرَتُہ۔
حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''اس کے لیے چالیس۔''(7)اور فضائل اسی طرح ہوتے ہیں یعنی جتنا کام زیادہ ہوگا ثواب بھی بڑھتا جائے گا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الاستئذان،باب کیف الرد علی أھل الذمۃ بالسلام،الحدیث:۶۲۵۸،ج۴،ص۱۷۴. 2۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''،کتاب السلام،باب من حق الجلوس علی الطریق رد السلام،الحدیث:۳۔(۲۱۶۱)،ص۱۱۹۱. 3۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب،باب في الجلوس بالطرقات،الحدیث:۴۸۱۶،ج۴،ص۳۳۷. 4۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق،الحدیث:۴۸۱۷،ج۴،ص۳۳۷. 5۔۔۔۔۔۔ ''شرح السنۃ''،کتاب الاستئذان...إلخ،باب کراھیۃ الجلوس علی الطرق،الحدیث:۳۲۳۲،ج۶،ص۳۶۵. 6۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''،کتاب السلام،باب کیف السلام،الحدیث:۵۱۹۵،ج۴،ص۴۴۹. 7۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق،الحدیث:۵۱۹۶،ج۴،ص۴۴۹.