حدیث ۱۶: بیہقی نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ فرمایا:''جماعت کہیں سے گزری اور اس میں سے ایک نے سلام کرلیا یہ کافی ہے اور جو لوگ بیٹھے ہیں، ان میں سے ایک نے جواب دے دیا یہ کافی ہے۔'' (1) یعنی سب پر جواب دینا ضروری نہیں۔
حدیث ۱۷: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''سوار پیدل کو سلام کرے اور چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے اور تھوڑے آدمی زیادہ آدمیوں کو سلام کریں۔''(2)یعنی ایک طر ف زیادہ ہوں اور دوسری طرف کم تو سلام وہ لوگ کریں جو کم ہیں۔ بخاری کی دوسری روایت انھیں سے یہ ہے کہ ''چھوٹا بڑے کو سلام کرے اور گزرنے والا بیٹھے ہوئے کو اور تھوڑے زیادہ کو۔''(3)
حدیث ۱۸: صحیح بخاری و مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم بچوں کے سامنے سے گزرے اور بچوں کو سلام کیا۔ (4)
حدیث ۱۹: صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''یہود و نصاریٰ کو ابتداءً سلام نہ کرو اور جب تم ان سے راستہ میں ملو تو ان کو تنگ راستہ کی طرف مضطر کرو۔'' (5)
حدیث ۲۰: صحیح بخاری و مسلم میں اسامہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم ایک مجلس پر گزرے، جس میں مسلمان اور مشرکین بت پرست اور یہود سب ہی تھے، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے سلام کیا۔ (6)یعنی مسلمانوں کی نیت سے۔
حدیث ۲۱: صحیح بخاری و مسلم میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب یہود تم کو سلام کرتے ہیں تو یہ کہتے ہیں السام علیک تو تم اس کے جواب میں وعلیک کہو یعنی وعلیک السلام نہ کہو۔''(7)
سام کے معنی موت ہیں وہ لوگ حقیقۃً سلام نہیں کرتے، بلکہ مسلم کے جلد مر جانے کی دعا کرتے ہیں۔ اسی کی مثل انس