Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16)
456 - 660
    حدیث ۱۱: ترمذی نے جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''سلام کو کلام سے پہلے ہونا چاہیے اور کسی کو کھانے کے لیے نہ بلاؤ، جب تک وہ سلام نہ کرلے۔''(1) 

    حدیث ۱۲: ابن النجار نے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''سوال سے پہلے سلام ہے، جو شخص سلام سے پہلے سوال کرے، اسے جواب نہ دو۔''(2) 

    حدیث ۱۳: ترمذی وابو داود نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''جب کسی مجلس تک کوئی پہنچے تو سلام کرے، پھر اگر وہاں بیٹھنا ہو تو بیٹھ جائے پھر جب وہاں سے اٹھے سلام کرے، کیونکہ پہلی مرتبہ کا سلام پچھلی مرتبہ کے سلام سے زیادہ بہتر نہیں ہے۔''(3)یعنی جیسے وہ سنت ہے، یہ بھی سنت ہے۔ 

    حدیث ۱۴: امام مالک و بیہقی نے شعب الایمان میں طفیل بن ابی بن کعب سے روایت کی، کہ یہ صبح کو ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماکے پاس جاتے تو وہ ان کو اپنے ساتھ بازار لے جاتے۔ وہ گھٹیا چیزوں کے بیچنے والے اور کسی بیچنے والے اور مسکین یا کسی کے سامنے سے گزرتے سب کو سلام کرتے۔ طفیل کہتے ہیں کہ ایک دن میں عبداﷲبن عمررضی اللہ تعالٰی عنہما کے پاس آیا، انھوں نے بازار چلنے کو کہا، میں نے کہا، آپ بازار جا کر کیا کریں گے نہ تو آپ وہاں کھڑے ہوتے ہیں، نہ سودے کے متعلق کچھ دریافت کرتے ہیں، نہ کسی چیز کا نرخ چکاتے ہیں اور نہ بازار کی مجلسوں میں بیٹھتے ہیں؟ یہیں بیٹھے باتیں کیجیے یعنی حدیثیں سنائیے۔ انھوں نے فرمایا:''ہم سلام کرنے کے لیے بازار جاتے ہیں کہ جو ملے گا، اسے سلام کریں گے۔''(4) 

    حدیث ۱۵: امام ا حمد و بیہقی نے شعب الایمان میں جابررضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ ایک دن نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور یہ عرض کی کہ فلاں شخص کے میرے باغ میں کچھ پھل ہیں، ان کی وجہ سے مجھے تکلیف ہے۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے آدمی بھیج کر اسے بلایا اور یہ فرمایاکہ اپنے پھلوں کو بیچ ڈالو۔ اُس نے کہا، نہیں بیچوں گا۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:ہبہ کر دو۔ اس نے کہا، نہیں۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:اس کو جنت کے پھل کے عوض بیچ دو۔ اس نے کہا، نہیں۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''تجھ سے بڑھ کر بخیل میں نے نہیں دیکھا، مگر وہ شخص جو سلام کرنے میں بخل کرتا ہے۔''(5)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الإستئذان...إلخ،باب في السلام قبل الکلام،الحدیث:۲۷۰۸،ج۴،ص۳۲۱.

2۔۔۔۔۔۔ ''کنزالعمال''،کتاب الصحبۃ، رقم: ۲۵۲۸۷،ج۹،ص۵۲.

3۔۔۔۔۔۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الإستئذان...إلخ،باب في التسلیم عند القیام...إلخ،الحدیث:۲۷۱۵،ج۴،ص۳۲۴.

4۔۔۔۔۔۔ ''المؤطا'' للإمام مالک،کتاب السلام،باب جامع السلام،الحدیث:۱۸۴۴،ج۲،ص۴۴۴ ۔ ۴۴۵. 

5۔۔۔۔۔۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند جابر بن عبد اللہ،الحدیث:۱۴۵۲۴،ج۵،ص۷۹.
Flag Counter