حدیث ۴: ترمذی و دارمی نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''مسلم کے مسلم پر چھ حقوق ہیں، معروف کے ساتھ (1)جب اس سے ملے تو سلام کرے اور (2) جب وہ بلائے اجابت کرے اور (3) جب چھینکے یہ جواب دے اور (4) جب بیمار ہو عیادت کرے اور (5)جب وہ مرجائے اس کے جنازے کے ساتھ جائے اور (6) جو چیز اپنے لیے پسند کرے، اس کے لیے پسند کرے۔'' (1)
حدیث ۵: صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''جنت میں تم نہیں جاؤ گے، جب تک ایما ن نہ لاؤ اور تم مومن نہیں ہوگے جب تک آپس میں محبت نہ کرو۔ کیا تمھیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم اسے کرو تو آپس میں محبت کرنے لگو گے، وہ یہ ہے کہ آپس میں سلام کو پھیلاؤ۔'' (2)
حدیث ۶: امام احمد و ترمذی و ابو داود، ابو امامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں ،کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص پہلے سلام کرے وہ رحمتِ الٰہی کا زیادہ مستحق ہے۔'' (3)
حدیث ۷: بیہقی نے شعب الایمان میں عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص پہلے سلام کرتا ہے، وہ تکبر سے بری ہے۔'' (4)
حدیث ۸: ابو داود نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جب کوئی شخص اپنے بھائی سے ملے تو اسے سلام کرے پھر ان دونوں کے درمیان درخت یا دیوار یا پتھر حائل ہوجائے اور پھر ملاقات ہو تو پھر سلام کرے۔''(5)
حدیث ۹: ترمذی نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''بیٹے جب گھر والوں کے پاس جاؤ تو انھیں سلام کرو ،تم پر تمھارے گھر والوں پر اس کی برکت ہوگی۔'' (6)
حدیث ۱۰: ترمذی نے جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''سلام بات چیت کرنے سے پہلے ہے۔''(7)