| بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16) |
نہیں سلام کرے اس کے بعد کلام شروع کرے۔ (1) (خانیہ)
مسئلہ ۲: کسی کے دروازہ پر جا کر آواز دی اس نے کہا کون؟ تو اس کے جواب میں یہ نہ کہے ، کہ میں جیسا کہ بہت سے لوگ میں کہہ کر جواب دیتے ہیں اس جواب کو حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم نے ناپسند فرمایا ۔(2)بلکہ جواب میں اپنا نام ذکر کرے کیونکہ میں کا لفظ تو ہر شخص اپنے کو کہہ سکتا ہے یہ جواب ہی کب ہوا۔
مسئلہ ۳: اگر تم نے اجازت مانگی اور صاحبِ خانہ نے اجازت نہ دی تو اس سے ناراض نہ ہو، اپنے دل میں کدورت (3) نہ لاؤ، خوشی خوشی وہاں سے واپس آؤ۔ ہوسکتا ہے اس کو اس وقت تم سے ملنے کی فرصت نہ ہو کسی ضروری کام میں مشغول ہو۔
مسئلہ ۴: اگر ایسے مکان میں جانا ہو کہ اس میں کوئی نہ ہو تو یہ کہواَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللہِ الصّٰلِحِیْن
فرشتے اس سلام کا جواب دیں گے۔ (4) (ردالمحتار)یا اس طرح کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَاالنَّبِیُّ
کیونکہ حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم کی روح مبارک مسلمانوں کے گھروں میں تشریف فرما ہے۔ (5)
مسئلہ ۵: آنے والے نے سلام نہیں کیا اور بات چیت شروع کردی تو اسے اختیار ہے ،کہ اسکی بات کا جواب نہ دے کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''جس نے سلام سے قبل کلام کیا، اس کی بات کا جواب نہ دو۔'' (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶: آنے کے وقت بھی سلام کرے اور جاتے وقت بھی یہاں تک کہ دونوں کے درمیان میں اگر دیوار یا درخت حائل ہوجائے، جب بھی سلام کرے۔ (7) (ردالمحتار)سلام کا بیان
اﷲتعالٰی فرماتا ہے:
(وَ اِذَا حُیِّیۡتُمۡ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوۡا بِاَحْسَنَ مِنْہَاۤ اَوْ رُدُّوۡہَا ؕ اِنَّ اللہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ حَسِیۡبًا ﴿۸۶﴾ )
(8)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الحظر والإباحۃ،فصل في التسبیح...إلخ،ج۲،ص۳۷۷. 2۔۔۔۔۔۔ انظر: ''سنن أبی داود''،کتاب الأدب ،باب الرجل یستأذن بالدق،الحدیث:۵۱۸۷،ج۴،ص۴۴۶. 3۔۔۔۔۔۔ یعنی ناراضگی۔ 4۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۸۲. 5۔۔۔۔۔۔ انظر: ''شرح الشفاء'' للقاري، الباب الرابع، فصل في المواطن التی تستحب فیھا الصلاۃ والسلام،ج۲،ص۱۱۸. 6۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۸۲. 7۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق. 8۔۔۔۔۔۔ پ۵، النسآء: ۸۶.