| بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16) |
حدیث ۶: بیہقی نے شعب الایمان میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''جو شخص اجازت طلب کرنے سے پہلے سلام نہ کرے، اسے اجازت نہ دو۔''(1)
حدیث ۷: ابو داود نےعبداﷲ بن بسر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں جب رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کسی کے دروازہ پر تشریف لے جاتے تو دروازہ کے سامنے نہیں کھڑے ہوتے تھے بلکہ دہنے یا بائیں ہٹ کر کھڑے ہوتے اور یہ فرماتے:''اَلسَّلامُ عَلَیْکُمْ، اَلسَّلامُ عَلَیْکُمْ''۔
(2)اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس زمانہ میں دروازوں پر پردے نہیں ہوتے تھے۔
حدیث ۸: ترمذی نے ثوبان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''کسی شخص کو یہ حلال نہیں کہ دوسرے کے گھر میں بغیر اجازت حاصل کیے نظر کرے اور اگر نظر کرلی تو داخل ہی ہوگیا اور یہ نہ کرے کہ کسی قوم کی امامت کرے اور خاص اپنے لیے دعا کرے، ان کے لیے نہ کرے او رایسا کیا تو ان کی خیانت کی۔'' (3)
حدیث ۹: امام احمد و نسائی نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو کسی کے گھر میں بغیر اجازت لیے جھانکے اور انھوں نے اس کی آنکھ پھوڑ دی تو نہ دیت ہے نہ قصاص(4)۔''(5)
حدیث ۱۰: ترمذی نے ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''جس نے اجازت سے قبل پردہ ہٹا کر مکان کے اندر نظر کی، اس نے ایسا کام کیا جو اس کے لیے حلال نہ تھا اور اگر کسی نے اس کی آنکھ پھوڑ دی تو اس پر کچھ نہیں اور اگر کوئی شخص ایسے دروازہ پر گیا جس پر پردہ نہیں اور اس کی نظر گھر والے کی عورت پر پڑ گئی (یعنی بلا قصد)تو اس کی خطا نہیں خطا گھر والوں کی ہے۔''(6) (کہ انہوں نے دروازہ پر پردہ کیوں نہیں لٹکایا)۔مسائل فقہیہ
مسئلہ ۱: جب کوئی شخص دوسرے کے مکان پر جائے ،تو پہلے اندر آنے کی اجازت حاصل کرے پھر جب اندر جائے تو پہلے سلام کرے ،اس کے بعد بات چیت شروع کرے اور اگر جس کے پاس گیا ہے وہ باہر ہے تو اجازت کی ضرورت
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ ''شعب الإیمان''،باب في مقاربۃ وموادۃ أھل الدین،الحدیث:۸۸۱۶،ج۶،ص۴۴۱. 2۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب،باب کم مرۃ یسلم الرجل في الاستئذان،الحدیث:۵۱۸۶،ج۴،ص۴۴۶. 3۔۔۔۔۔۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الصلاۃ،باب ماجاء في کراھیۃ أن یخص الإمام نفسہ بالدعاء،الحدیث:۳۵۷،ج۱،ص۳۷۳. 4۔۔۔۔۔۔یعنی آنکھ پھوڑنے کے عوض نہ مال دیا جائے گا نہ بدلہ میں اس کی آنکھ پھوڑی جائے گی۔ 5۔۔۔۔۔۔ ''سنن النسائي''،کتاب القسامۃ والقود،باب من إقتص وأخذحقہ دون السلطان،الحدیث:۴۸۷۰،ص۷۸۰. 6۔۔۔۔۔۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الإستئذان...إلخ،باب ماجاء في الاستئذان قبالۃ البیت،الحدیث:۲۷۱۶،ج۴،ص۳۲۴.