Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16)
451 - 660
    حدیث ۲: صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ، کہتے ہیں کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے ساتھ میں مکان میں گیا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو پیالے میں دودھ ملااور فرمایا:''ابوہریرہ!اصحاب صفہ کے پاس جاؤ انھیں بلا لاؤ۔''(تاکہ ان کو دودھ دیا جائے)میں انھیں بلا لایا، وہ آئے اور اجازت طلب کی، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے اجازت دی تب وہ مکان کے اندر داخل ہوئے۔ (1) 

    حدیث ۳: ابو داود نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب کوئی شخص بلایا جائے اوراسی بلانے والے کے ساتھ ہی آئے تو یہی (بلانا)اس کے لیے اجازت ہے۔'' (2)یعنی اس صورت میں اجازت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور ایک روایت میں ہے کہ ''آدمی بھیجنا ہی اجازت ہے۔'' (3) 

    یہ حکم اس وقت ہے کہ فوراً  آئے اور قرائن سے معلوم ہو کہ صاحبِ خانہ انتظار میں ہے، مکان میں پردہ ہوچکا ہے تو اجازت لی نے کی ضرورت نہیں اور اگر دیر میں آئے تو اجازت حاصل کرے ،جیسا کہ اصحاب صفہ نے کیا تھا۔ 

    حدیث ۴: ترمذی و ابو داود نے کلدہ بن حنبل سے روایت کی، کہتے ہیں کہ صفوان بن امیہ نے مجھے نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے پاس بھیجا تھا میں بغیر سلام کیے  اور بغیر اجازت اندر چلا گیا۔ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے فرمایا:''باہر جاؤ اور یہ کہو
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ ءَ اَدْخُلُ
کیا اندر آجاؤں۔ (4) 

    حدیث ۵: امام مالک نے عطا بن یسار(رضی اللہ تعالٰی عنہ)سے روایت کی، کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم سے دریافت کیا کہ کیا میں اپنی ماں کے پاس جاؤں تو اس سے بھی اجازت لوں۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:ہاں۔ انھوں نے کہا میں تو اس کے ساتھ اسی مکان میں رہتا ہی ہوں۔ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:اجازت لے کر اس کے پاس جاؤ، انھوں نے کہا، میں اس کی خدمت کرتا ہوں یعنی بار بار آنا جانا ہوتا ہے۔ پھر اجازت کی کیا ضرورت ہے؟ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''اجازت لے کر جاؤ، کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ اسے برہنہ دیکھو؟ عرض کی نہیں، فرمایا:تو اجازت حاصل کرو۔''(5)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الإستئذان،باب إذا دعی الرجل فجاء ھل یستأذن،الحدیث:۶۲۴۶،ج۴،ص۱۷۰.

2۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب،باب في الرجل یدعی أیکون ذلک إذنہ،الحدیث:۵۱۹۰،ج۴،ص۴۴۷.

3۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق،الحدیث:۵۱۸۹،ج۴ص۴۴۷. 

4۔۔۔۔۔۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الإستئذان...إلخ،باب ماجاء في التسلیم قبل الإستئذان،الحدیث:۲۷۱۹،ج۴،ص۳۲۵.

و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب الآداب،باب الإستئذان،الحدیث:۴۶۷۱،ج۳،ص، ۱۲۔۱۳. 

5۔۔۔۔۔۔ ''الموطأ'' للإمام مالک،کتاب الإستئذان،باب الإستئذان،الحدیث:۱۸۴۷،ج۲،ص۴۴۶.
Flag Counter