Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16)
450 - 660
    ''اے ایمان والو!اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوجب تک اجازت نہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ کرلو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو اور اگر ان گھروں میں کسی کو نہ پاؤ تو اندر نہ جاؤ جب تک تمھیں اجازت نہ ملے اور اگر تم سے کہا جائے کہ لوٹ جاؤ تو واپس چلے آؤ، یہ تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو اﷲ(عزوجل)اس کو جانتا ہے، اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں کہ ایسے گھروں کے اندر چلے جاؤ جن میں کوئی رہتا نہیں ہے اور ان میں تمھارا سامان ہے اور اﷲ(عزوجل)جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جس کو چھپاتے ہو۔''اور فرماتا ہے:
    (یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لِیَسْتَاۡذِنۡکُمُ الَّذِیۡنَ مَلَکَتْ اَیۡمَانُکُمْ وَالَّذِیۡنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنۡکُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ ؕ مِنۡ قَبْلِ صَلٰوۃِ الْفَجْرِ وَحِیۡنَ تَضَعُوۡنَ ثِیَابَکُمۡ مِّنَ الظَّہِیۡرَۃِ وَمِنۡۢ بَعْدِ صَلٰوۃِ الْعِشَآءِ ۟ؕ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّکُمْ ؕ لَیۡسَ عَلَیۡکُمْ وَلَا عَلَیۡہِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَہُنَّ ؕ طَوَّافُوۡنَ عَلَیۡکُمۡ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَعْضٍ ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ ؕ وَاللہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۵۸﴾ )
 (1) 

    ''اے ایمان والو!چاہیے کہ تم سے اذن لیں وہ جن کے تم مالک ہو (غلام)اور وہ جو تم میں ابھی جوانی کو نہ پہنچے تین وقت نماز صبح سے پہلے اور جب تم اپنے کپڑے اتار رکھتے ہو دوپہر کو اور نماز عشا کے بعد یہ تین وقت تمھاری شرم کے ہیں، ان تین کے علاوہ کچھ گناہ نہیں تم پر، نہ ان پر، تمھارے پاس آمدورفت رکھتے ہیں بعض بعض کے پاس۔ یوہیں اﷲ (عزوجل)تمھارے لیے آیتیں بیان کرتا ہے اوراﷲ(عزوجل)علم و حکمت والا ہے اور جب تم میں کے لڑکے جوانی کو پہنچ جائیں تو وہ بھی اذن مانگیں جیسے ان کے اگلوں نے اذن مانگا۔ یوہیں اﷲ(عزوجل)تمھارے لیے اپنی آیتیں بیان کرتا ہے اور اﷲ(عزوجل)علم و حکمت والا ہے۔'' 

    حدیث ۱: صحیح بخاری و مسلم میں ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے، کہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ ہمارے پاس آئے اور یہ کہا کہ حضرت عمررضی اللہ تعالٰی عنہ نے مجھے بلایا تھا۔ میں نے ان کے دروازہ پر جا کر تین بار سلام کیا، جب جواب نہیں ملا تو میں واپس چلا آیا۔ اب حضرت عمر(رضی اللہ تعالٰی عنہ)فرماتے ہیں کہ تم کیوں نہیں آئے؟ میں نے کہا کہ میں آیا تھا اور دروازہ پرتین بار سلام کیا جب جواب نہیں ملا تو واپس گیا اور رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے مجھ سے فرمایا ہے کہ جب کوئی شخص تین بار اجازت مانگے اور جواب نہ ملے تو واپس جائے۔ حضرت عمر(رضی اللہ تعالٰی عنہ)یہ فرماتے ہیں کہ گواہ لاؤ کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ایسا فرمایا ہے۔ ابوسعید خدری (رضی اللہ تعالٰی عنہ)کہتے ہیں میں نے جا کر گواہی دی۔ (2)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ پ۱۸، النور: ۵۸۔۵۹. 

2۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الأدب،باب الاستئذان،الحدیث:۳۳۔(۲۱۵۳)،ص۱۱۸۶.
Flag Counter