مسئلہ ۲۹: عمل دی نے (1) کی ضرورت ہو تو مرد مرد کے موضع حقنہ (2) کی طرف نظر کرسکتا ہے یہ بھی بوجہ ضرورت جائز ہے اور ختنہ کرنے میں موضع ختنہ کی طرف نظر کرنا بلکہ اس کا چھونا بھی جائز ہے کہ یہ بھی بوجہ ضرورت ہے۔ (3) (ہدایہ، عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: عورت کو فصد کرانے (4)کی ضرورت ہے اور کوئی عورت ایسی نہیں ہے جو اچھی طرح فصد کھولے تو مرد سے فصد کرانا جائز ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۱: اجنبیہ عورت نے خوب موٹے کپڑے پہن رکھے ہیں کہ بدن کی رنگت وغیرہ نظر نہیں آتی، تو اس صورت میں اس کی طرف نظر کرنا جائز ہے ،کہ یہاں عورت کو دیکھنا نہیں ہوا بلکہ ان کپڑوں کو دیکھنا ہوا یہ اس وقت ہے کہ اس کے کپڑے چست نہ ہوں اور اگر چست کپڑے پہنے ہو کہ جسم کا نقشہ کھنچ جاتا ہو مثلاً چست پائجامہ میں پنڈلی اور ران کی پوری ہیئت نظر آتی ہے تو اس صورت میں نظر کرنا ناجائز ہے۔
اسی طرح بعض عورتیں بہت باریک کپڑے پہنتی ہیں مثلاً آب رواں (6)یا جالی یا باریک ململ ہی کا ڈوپٹا (7) جس سے سر کے بال یا بالوں کی سیاہی یا گردن یا کان نظر آتے ہیں اور بعض باریک تنزیب یا جالی کے کرتے پہنتی ہیں کہ پیٹ اور پیٹھ بالکل نظر آتی ہے اس حالت میں نظر کرنا حرام ہے اور ایسے موقع پر ان کو اس قسم کے کپڑے پہننا بھی ناجائز ۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: خصی یعنی جس کے انثیین نکال لیے گئے ہوں یا مجبوب جس کا عضو تناسل کاٹ لیا گیا جب ان کی عمر پندرہ سال کی ہو تو ان کے لیے بھی اجنبیہ کی طرف نظر کرنا ناجائز ہے۔ یہی حکم زنخوں (9) کا بھی ہے۔ (10) (ہدایہ)
مسئلہ ۳۳: جس عضو کی طرف نظر کرنا ناجائز ہے اگر وہ بدن سے جدا ہوجائے تو اب بھی اس کی طرف نظر کرنا ناجائز ہی رہے گا، مثلاً پیڑو کے بال (11) کہ ان کو جدا کرنے کے بعد بھی دوسرا شخص دیکھ نہیں سکتا۔ عورت کے سر کے بال یا اس کے