مسئلہ ۲۰: کنیز کو خریدنے کا ارادہ ہو تو اس کی کلائی اور بازو اور پنڈلی اور سینہ کی طرف نظر کرسکتا ہے ،کیونکہ اس حالت میں دیکھنے کی ضرورت ہے اور اس کے ان اعضا کو چھو بھی سکتا ہے بشرطیکہ شہوت کا اندیشہ نہ ہو۔ (1) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۱: اجنبی عورت کی طرف نظر کرنے کا حکم یہ ہے کہ اس کے چہرہ اور ہتھیلی کی طرف نظر کرنا جائز ہے ،کیونکہ اس کی ضرورت پڑتی ہے کہ کبھی اس کے موافق یا مخالف شہادت دینی ہوتی ہے یا فیصلہ کرنا ہوتا ہے اگر اسے نہ دیکھا ہو تو کیونکر گواہی دے سکتا ہے کہ اس نے ایسا کیا ہے اس کی طرف دیکھنے میں بھی وہی شرط ہے کہ شہوت کا اندیشہ نہ ہو اور یوں بھی ضرورت ہے کہ بہت سی عورتیں گھر سے باہر آتی جاتی ہیں، لہٰذا اس سے بچنا بہت دشوار ہے۔ بعض علما نے قدم کی طرف بھی نظر کو جائز کہا ہے۔ (2) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: اجنبیہ عورت کے چہرہ اور ہتھیلی کو دیکھنا اگرچہ جائز ہے مگر چھونا جائز نہیں، اگرچہ شہوت کا اندیشہ نہ ہو کیونکہ نظر کے جواز کی وجہ ضرورت اور بلوائے عام ہے چھونے کی ضرورت نہیں، لہٰذا چھونا حرام ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان سے مصافحہ جائز نہیں اسی لیے حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم بوقت بیعت بھی عورتوں سے مصافحہ نہ فرماتے صرف زبان سے بیعت لیتے۔ ہاں اگر وہ بہت زیادہ بوڑھی ہو کہ محل شہوت نہ ہو تو اس سے مصافحہ میں حرج نہیں۔ یوہیں اگر مرد بہت زیادہ بوڑھا ہو کہ فتنہ کا اندیشہ ہی نہ ہو تو مصافحہ کرسکتا ہے۔ (3) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۳: بہت چھوٹی لڑکی جو مشتہاۃ (4)نہ ہو اس کو دیکھنا بھی جائز ہے اور چھونا بھی جائز ہے۔ (5) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۴: اجنبیہ عورت نے کسی کے یہاں کام کاج کرنے روٹی پکانے کی نوکری کی ہے اس صورت میں اس کی کلائی کی طرف نظر جائز ہے۔ کہ وہ کام کاج کے لیے آستین چڑھائے گی کلائیاں اس کی کھلیں گی اور جب اس کے مکان میں ہے تو کیوں کر بچ سکے گا، اسی طرح اس کے دانتوں کی طرف نظر کرنا بھی جائز ہے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: اجنبیہ عورت کے چہرہ کی طرف اگرچہ نظر جائز ہے ،جبکہ شہوت کا اندیشہ نہ ہو مگر یہ زمانہ فتنہ کا ہے اس زمانے میں ویسے لوگ کہاں جیسے اگلے زمانہ میں تھے، لہٰذا س زمانہ میں اس کو دیکھنے کی ممانعت کی جائے گی مگر گواہ و قاضی کے لیے