ہے، جبکہ دونوں میں سے کسی کی شہوت کا اندیشہ نہ ہو محارم کے پیٹ، پیٹھ اور ران کی طرف نظر کرنا ناجائز ہے۔ (1) (ہدایہ)اسی طرح کروٹ اورگھٹنے کی طرف نظر کرنا بھی ناجائز ہے۔ (2) (ردالمحتار)کان اور گردن اور شانہ اور چہرہ کی طرف نظر کرنا جائز ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: محارم سے مراد وہ عورتیں ہیں جن سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہے، یہ حرمت نسب سے ہو یا سبب سے مثلاً رضاعت یا مصاہرت (4)اگر زنا کی وجہ سے حرمت مصاہرت ہو جیسے مزنیہ کے اصول و فروع (5)ان کی طرف نظر کا بھی وہی حکم ہے۔ (6) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۶: محارم کے جن اعضا کی طرف نظر کرسکتا ہے ان کو چھو بھی سکتا ہے، جبکہ دونوں میں سے کسی کی شہوت کا اندیشہ نہ ہو ۔مرد اپنی والدہ کے پاؤں دبا سکتا ہے مگر ران اس وقت دبا سکتا ہے جب کپڑے سے چھپی ہو، یعنی کپڑے کے اوپر سے اور بغیر حائل چھونا جائز نہیں۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: والدہ کے قدم کو بوسہ بھی دے سکتا ہے۔ حدیث میں ہے''جس نے اپنی والدہ کا پاؤں چوما، تو ایسا ہے جیسے جنت کی چوکھٹ کو بوسہ دیا۔''(8) (درمختار)
مسئلہ ۱۸: محارم کے ساتھ سفر کرنا یا خلوت میں اس کے ساتھ ہونا، یعنی مکان میں دونوں کا تنہا ہونا کہ کوئی دوسرا وہاں نہ ہو جائز ہے بشرطیکہ شہوت کا اندیشہ نہ ہو۔ (9) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: دوسرے کی باندی کی طرف نظر کرنے کا وہی حکم ہے جو محارم کا ہے۔ مدبرہ اور مکاتبہ کا بھی یہی حکم ہے۔ (10) (ہدایہ)