شہوت نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسے یقین ہو کہ نظر کرنے سے شہوت نہ ہوگی اور اگر اس کا شبہہ بھی ہو تو ہر گز نظر نہ کرے، بوسہ کی خواہش پیدا ہونا بھی شہوت کی حد میں داخل ہے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴: عورت کا عورت کو دیکھنا، اس کا وہی حکم ہے جو مرد کو مرد کی طرف نظر کرنے کا ہے یعنی ناف کے نیچے سے گھٹنے تک نہیں دیکھ سکتی باقی اعضا کی طرف نظر کرسکتی ہے۔ بشرطیکہ شہوت کا اندیشہ نہ ہو۔ (2) (ہدایہ)
مسئلہ ۵: عورت صالحہ کو یہ چاہیے کہ اپنے کو بدکار عورت کے دیکھنے سے بچائے، یعنی اس کے سامنے دوپٹا وغیرہ نہ اتارے کیونکہ وہ اسے دیکھ کر مردوں کے سامنے اس کی شکل و صورت کا ذکر کرے گی، مسلمان عورت کو یہ بھی حلال نہیں کہ کافرہ کے سامنے اپنا ستر کھولے۔ (3) (عالمگیری)
گھروں میں کافرہ عورتیں آتی ہیں اور بیبیاں ان کے سامنے اسی طرح مواضع ستر کھولے ہوئے ہوتی ہیں جس طرح مسلمہ کے سامنے رہتی ہیں ان کو اس سے اجتناب (4)لازم ہے۔ اکثر جگہ دائیاں کافرہ ہوتی ہیں اور وہ بچہ جنانے کی خدمت انجام دیتی ہیں، اگر مسلمان دائیاں مل سکیں تو کافرہ سے ہر گز یہ کام نہ کرایا جائے کہ کافرہ کے سامنے ان اعضا کے کھولنے کی اجازت نہیں۔
مسئلہ ۶: عورت کا مرد اجنبی کی طرف نظر کرنے کا وہی حکم ہے، جو مرد کا مرد کی طرف نظر کرنے کا ہے اور یہ اس وقت ہے کہ عورت کو یقین کے ساتھ معلوم ہو ،کہ اس کی طرف نظر کرنے سے شہوت نہیں پیدا ہوگی اور اگر اس کا شبہہ بھی ہو تو ہر گز نظر نہ کرے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: عورت مرد اجنبی کے جسم کو ہرگز نہ چھوئے جبکہ دونوں میں سے کوئی بھی جوان ہو، اس کو شہوت ہوسکتی ہو اگرچہ اس بات کا دونوں کو اطمینان ہو کہ شہوت نہیں پیدا ہوگی۔ (6) (عالمگیری)بعض جو ان عورتیں اپنے پیروں کے ہاتھ پاؤں دباتی ہیں اور بعض پیراپنی مریدہ سے ہاتھ پاؤں دبواتے ہیں اور ان میں اکثر دونوں یا ایک حدِ شہوت میں ہوتا ہے ایسا کرنا ناجائز ہے اور دونوں گنہگار ہیں۔