Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16)
442 - 660
    حدیث ۲۱: امام احمد و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ و دارمی نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں میں نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیا۔ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مجھ سے فرما یاکہ تم نے اسے دیکھ لیا ہے؟ عرض کی، نہیں۔ فرمایا:''اسے دیکھ لو!کہ اس کی وجہ سے تم دونوں کے درمیان موافقت ہونے کا پہلو غالب ہے۔''(1)
مسائل فقہیہ
اس باب کے مسائل چار قسم کے ہیں۔ مرد کا مرد کو دیکھنا، عورت کا عورت کو دیکھنا، عورت کا مرد کو دیکھنا، مرد کا عورت کو دیکھنا۔

    مرد مرد کے ہر حصہ بدن کی طرف نظر کرسکتا ہے سوا ان اعضا کے جن کا ستر ضروری ہے۔ وہ ناف کے نیچے سے گھٹنے کے نیچے تک ہے کہ اس حصہ بدن کا چھپانا فرض ہے، جن اعضا کا چھپانا ضروری ہے ان کو عورت کہتے ہیں ۔ کسی کو گھٹنا کھولے ہوئے دیکھے تو اسے منع کرے اور ران کھولے ہوئے دیکھے تو سختی سے منع کرے اور شرم گاہ کھولے ہوئے ہو تو اسے سزا دی جائے گی۔ (2) (عالمگیری)

مسئلہ ۱: بہت چھوٹے بچے کے لیے عورت نہیں یعنی اس کے بدن کے کسی حصہ کا چھپانا فرض نہیں، پھر جب کچھ بڑا ہوگیا تو اس کے آگے پیچھے کا مقام چھپانا ضروری ہے۔ پھر جب اور بڑا ہوجائے دس برس سے بڑا ہوجائے توا س کے لیے بالغ کا سا حکم ہے۔ (3) (ردالمحتار)

مسئلہ ۲: جس حصہ بدن کی طرف نظر کرسکتا ہے اس کو چھو بھی سکتا ہے۔ (4) (ہدایہ) 

مسئلہ ۳: لڑکا جب مراہق(5)ہوجائے اور وہ خوبصورت نہ ہو تو نظر کے بارے میں اس کا وہی حکم ہے جو مرد کا ہے اور خوبصورت ہو تو عورت کا جو حکم ہے وہ ا س کے لیے ہے یعنی شہوت کے ساتھ اس کی طرف نظر کرنا حرام ہے اور شہوت نہ ہو تو اس کی طرف بھی نظر کرسکتا ہے اور اس کے ساتھ تنہائی بھی جائز ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''سنن النسائی''،کتاب النکاح،باب إباحۃ النظرقبل التزویج،الحدیث:۳۲۳۲،ص۵۲۷.

و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب النکاح،باب النظر إلی المخطوبۃ،الحدیث:۳۱۰۷،ج۲،ص۲۰۶. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثامن فیما یحل...إلخ،ج۵،ص۳۲۷.

3۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في النظر والمس،ج۹،ص۶۰۲.

4۔۔۔۔۔۔ ''الھدایۃ''،کتاب الکراھیۃ، فصل في الوطء والنظر واللمس،ج۲،ص۳۷۱.

5۔۔۔۔۔۔ یعنی بالغ ہونے کے قریب۔
Flag Counter