حدیث ۱۵: ابو داودو ابن ماجہ نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایاکہ ''اے علی!ران کو نہ کھولو اور نہ زندہ کی ران کی طرف نظر کرو نہ مردہ کی۔'' (1)
حدیث ۱۶: صحیح مسلم میں ابوسعید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''ایک مرد دوسرے مرد کی ستر کی جگہ نہ دیکھے اور نہ عورت دوسری عورت کی ستر کی جگہ دیکھے اور نہ مرددوسرے مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں برہنہ سوئے اور نہ عورت دوسری عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں برہنہ سوئے۔'' (2)
حدیث ۱۷: امام احمد و ترمذی و ابو داود نے حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی کہ یہ اور حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہما حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی خدمت میں حاضر تھیں کہ عبداللہ بن اُم مکتوم رضی اللہ تعالٰی عنہ آئے۔ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ان دونوں سے فرمایاکہ ''پردہ کرلو۔''کہتی ہیں:میں نے عرض کی، یارسول اللہ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)!وہ تو نابینا ہیں، ہمیں نہیں دیکھیں گے۔ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''کیا تم دونوں اندھی ہو، کیا تم انھیں نہیں دیکھو گی۔'' (3)
حدیث ۱۸: صحیح بخاری و مسلم میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''ایسا نہ ہو کہ ایک عورت دوسری عورت کے ساتھ رہے پھر اپنے شوہر کے سامنے اس کا حال بیان کرے،گویا یہ اسے دیکھ رہا ہے ۔'' ( 4)
حدیث ۱۹: صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''خبردار کوئی مرد ثیب عورت کے یہاں رات کو نہ رہے مگر اس صورت میں کہ اس سے نکاح کرنے والا ہو یا اس کا ذی محرم ہو۔''(5)
حدیث ۲۰: صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ، کہ ایک شخص نے نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں یہ عرض کی کہ انصار یہ عورت سے نکاح کامیرا ارادہ ہے۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے فرمایاکہ ''اسے دیکھ لو! کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہے۔''(6)یعنی ان کی آنکھیں کچھ بھوری ہوتی ہیں۔