حدیث ۳: صحیح مسلم میں جریر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں:میں نے رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم سے اچانک نظر پڑجانے کے متعلق دریافت کیا۔''حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے حکم دیا کہ اپنی نگاہ پھیر لو۔''(1)
حدیث ۴: امام احمد و ابو داود و ترمذی و د ارمی نے بریدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایاکہ ''ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ کرو (یعنی اگر اچانک بلاقصد کسی عورت پر نظر پڑجائے تو فوراً نظر ہٹالے اور دوبارہ نظر نہ کرے)کہ پہلی نظر جائز ہے اور دوسری نظر جائز نہیں۔''(2)
حدیث ۵: ترمذی نےعبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''عورت عورت ہے یعنی چھپانے کی چیز ہے جب وہ نکلتی ہے، تو اسے شیطان جھانک کر دیکھتا ہے ۔'' (3) یعنی اسے دیکھنا شیطانی کام ہے۔
حدیث ۶: امام احمد نے ابو امامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جو مسلمان کسی عورت کی خوبیوں کی طرف پہلی دفعہ نظر کرے یعنی بلاقصد پھر اپنی آنکھ میچ لے، اﷲتعالیٰ اس کے لیے ایسی عبادت پیدا کردے گا جس کا مزہ اس کو ملے گا۔''(4)
حدیث ۷: بیہقی نے حسن بصری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں مجھے یہ خبر پہنچی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''دیکھنے والے پر اور اُس پر جس کی طرف نظر کی گئی اﷲ(عزوجل)کی لعنت۔'' (5) یعنی دیکھنے والا جب بلا عذر قصداً دیکھے اور دوسرا اپنے کو بلاعذر قصداً دکھائے۔
حدیث ۸: ابن ماجہ نے عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، کہتی ہیں میں نے حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی شرم گاہ کی طرف کبھی نظر نہیں کی۔ (6)
حدیث ۹: ترمذی و ابو داود و ابن ماجہ بروایت بہزبن حکیم عن ابیہ عن جدہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:اپنی عورت یعنی ستر کی جگہ کو محفوظ رکھو، مگر بی بی سے یا اس باندی سے جس کے تم مالک ہو۔ میں نے عرض کی،