مسئلہ ۱۰: مہمان کو چار باتیں ضروری ہیں۔
(۱) جہاں بٹھایا جائے وہیں بیٹھے۔
(۲) جو کچھ اس کے سامنے پیش کیا جائے اس پر خوش ہو، یہ نہ ہو کہ کہنے لگے اس سے اچھا تو میں اپنے ہی گھر کھایا کرتا ہوں یا اسی قسم کے دوسرے الفاظ جیسا کہ آج کل اکثر دعوتوں میں لوگ آپس میں کہا کرتے ہیں۔
(۳) بغیر اجازتِ صاحبِ خانہ وہاں سے نہ اٹھے۔
(۴) اور جب وہاں سے جائے تو اس کے لیے دعا کرے۔ میزبان کو چاہیے کہ مہمان سے وقتاً فوقتاً کہے کہ اور کھاؤ مگر اس پر اصرار نہ کرے ،کہ کہیں اصرار کی وجہ سے زیادہ نہ کھا جائے اور یہ ا س کے لیے مضر ہو، میزبان کو بالکل خاموش نہ رہنا چاہیے اور یہ بھی نہ کرنا چاہیے کہ کھانا رکھ کر غائب ہوجائے، بلکہ وہاں حاضر رہے اور مہمانوں کے سامنے خادم وغیرہ پر ناراض نہ ہو اور اگر صاحبِ وسعت ہو تو مہمان کی وجہ سے گھر والوں پر کھانے میں کمی نہ کرے۔
میزبان کو چاہیے کہ مہمان کی خاطرداری میں خود مشغول ہو، خادموں کے ذمہ اس کو نہ چھوڑے کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ ا لصلوۃ والتسلیم کی سنت ہے اگر مہمان تھوڑے ہوں تو میزبان ان کے ساتھ کھانے پر بیٹھ جائے کہ یہی تقاضائے مُروت ہے اور بہت سے مہمان ہوں تو ان کے ساتھ نہ بیٹھے بلکہ ان کی خدمت اور کھلانے میں مشغول ہو۔ مہمانوں کے ساتھ ایسے کو نہ بٹھائے جس کا بیٹھنا ان پر گراں ہو۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: جب کھا کر فارغ ہوں ان کے ہاتھ دھلائے جائیں اور یہ نہ کرے کہ ہر شخص کے ہاتھ دھونے کے بعد پانی پھینک کر دوسرے کے سامنے ہاتھ دھونے کے لیے طشت پیش کرے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: جس نے ہدیہ بھیجا اگر اس کے پاس حلال و حرام دونوں قسم کے اموال ہوں مگر غالب مال حلال ہے تو اس کے قبول کرنے میں حرج نہیں۔ یہی حکم اس کے یہاں دعوت کھانے کا ہے اور اگر اس کا غالب مال حرام ہے تو نہ ہدیہ قبول کرے اور نہ اس کی دعوت کھائے، جب تک یہ نہ معلوم ہو کہ یہ چیز جو اُسے پیش کی گئی ہے حلال ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: جس شخص پر اس کا دَین (4)ہے، اگر اس نے دعوت کی اور قرض سے پہلے بھی وہ اسی طرح دعوت کرتا تھا تو قبول کرنے میں حرج نہیں اور اگر پہلے بیس دن میں دعوت کرتا تھا اور اب دس ۱۰ دن میں کرتا ہے یا اب اُس نے کھانے میں تکلّفات