Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15)
339 - 357
    مسئلہ ۳۶: قربانی کے دن گزر گئے اور اوس نے قربانی نہیں کی اور جانور یا اوس کی قیمت کو صدقہ بھی نہیں کیا یہاں تک کہ دوسری بقر عید آگئی اب یہ چاہتا ہے کہ سال گزشتہ کی قربانی کی قضا اس سال کر لے یہ نہیں ہوسکتا بلکہ اب بھی وہی حکم ہے کہ جانور یا اوس کی قیمت صدقہ کرے۔(1) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۳۷: جس جانور کی قربانی واجب تھی ایامِ نحر گزرنے کے بعد اوسے بیچ ڈالا تو ثمن کا صدقہ کرنا واجب ہے۔ (2)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۳۸: کسی شخص نے یہ وصیت کی کہ اوس کی طرف سے قربانی کر دی جائے اور یہ نہیں بتایا کہ گائے یا بکری کس جانور کی قربانی کی جائے اور نہ قیمت بیان کی کہ اتنے کا جانور خرید کر قربانی کی جائے یہ وصیت جائز ہے اور بکری قربان کر دینے سے وصیت پوری ہوگئی اور اگر کسی کو وکیل کیا کہ میری طرف سے قربانی کر دینا اور گائے یا بکری کا تعین نہ کیا اور قیمت بھی بیان نہیں کی تو یہ توکیل صحیح نہیں۔ (3)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۳۹: قربانی کی منت مانی اور یہ معین نہیں کیا کہ گائے کی قربانی کریگا یا بکری کی تو منت صحیح ہے بکری کی قربانی کر دینا کافی ہے اور اگر بکری کی قربانی کی منت مانی تو اونٹ یا گائے قربانی کر دینے سے بھی منت پوری ہو جائے گی منت کی قربانی میں سے کچھ نہ کھائے بلکہ سارا گوشت وغیرہ صدقہ کر دے اور کچھ کھا لیا تو جتنا کھایا اوس کی قیمت صدقہ کرے۔(4) (عالمگیری)
قربانی کے جانور کا بیان
    مسئلہ ۱: قربانی کے جانور تین قسم کے ہیں۔ ۱ اونٹؔ  ،۲ گائےؔ  ،۳ بکریؔ ہرقسم میں اوس کی جتنی نوعیں ہیں سب داخل ہیں نراور مادہ ،خصی(5)اور غیر خصی سب کا ایک حکم ہے یعنی سب کی قربانی ہوسکتی ہے۔ بھینس گائے میں شمار ہے اس کی بھی قربانی ہوسکتی ہے۔ بھیڑ اور دنبہ بکری میں داخل ہیں ان کی بھی قربانی ہوسکتی ہے۔(6) (عالمگیری وغیرہ)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الرابع فیما یتعلق بالمکان والزمان،ج۵،ص۲۹۶،۲۹۷.

2۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۲۹۷.        3۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.

4۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الثانی فی وجوب الأضحیۃ...إلخ،ج۵،ص۲۹۵.

5۔۔۔۔۔۔وہ جانور جس کے فوطے نکال دیئے گئے ہوں۔

6۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الخامس فی بیان محل اقامۃالواجب،ج۵،ص۲۹۷،وغیرہ.
Flag Counter