کیونکہ ہوسکتا ہے کہ کسی کو زائد یا کم ملے اور یہ ناجائز ہے یہاں یہ خیال نہ کیا جائے کہ کم و بیش ہوگا تو ہر ایک اس کو دوسرے کے لیے جائز کر دے گا کہہ دے گا کہ اگر کسی کو زائد پہنچ گیا ہے تو معاف کیا کہ یہاں عدم جواز حق شرع ہے اور ان کو اس کے معاف کرنے کا حق نہیں۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۲: قربانی کا وقت دسویں ذی الحجہ کے طلوع صبح صادق سے بارہویں کے غروب آفتاب تک ہے یعنی تین دن ، دوراتیں اور ان دنوں کو ایام نحر کہتے ہیں اور گیارہ سے تیرہ تک تین دنوں کو ایام تشریق کہتے ہیں لہٰذا بیچ کے دو دن ایام نحر وایام تشریق دونوں ہیں اور پہلا دن یعنی دسویں ذی الحجہ صرف یوم النحرہے اور پچھلا دن یعنی تیرہویں ذی الحجہ صرف یوم التشریق ہے۔(2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۳: دسویں کے بعد کی دونوں راتیں ایام نحر میں داخل ہیں ان میں بھی قربانی ہوسکتی ہے مگر رات میں ذبح کرنا مکروہ ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: پہلا دن یعنی دسویں تاریخ سب میں افضل ہے پھر گیارہویں اور پچھلا دن یعنی بارہویں سب میں کم درجہ ہے اور اگر تاریخوں میں شک ہو یعنی تیس کا چاند مانا گیا ہے اور اونتیس کے ہونے کا بھی شبہہ ہے مثلاً گمان تھا کہ اونتیس کا چاند ہوگا مگر ابر وغیرہ کی وجہ سے نہ دکھایا شہادتیں گزریں مگر کسی وجہ سے قبول نہ ہوئیں ایسی حالت میں دسویں کے متعلق یہ شبہہ ہے کہ شاید آج گیارہویں ہو تو بہتر یہ ہے کہ قربانی کو بارہویں تک مؤخر نہ کرے یعنی بارہویں سے پہلے کر ڈالے کیونکہ بارہویں کے متعلق تیرہویں تاریخ ہونے کا شبہہ ہوگا تو یہ شبہہ ہوگا کہ وقت سے بعد میں ہوئی اور اس صورت میں اگر بارہویں کو قربانی کی جس کے متعلق تیرہویں ہونے کا شبہہ ہے تو بہتر یہ ہے کہ سارا گوشت صدقہ کر ڈالے بلکہ ذبح کی ہوئی بکری اور زندہ بکری میں قیمت کا تفاوت ہو کہ زندہ کی قیمت کچھ زائد ہو تو اس زیادتی کو بھی صدقہ کر دے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: ایام نحر میں قربانی کرنا اوتنی قیمت کے صدقہ کرنے سے افضل ہے کیونکہ قربانی واجب ہے یا سنت اور صدقہ کرنا تطوّع محض ہے(5)لہٰذا قربانی افضل ہوئی۔(6)(عالمگیری)اور وجوب کی صورت میں بغیر قربانی کیے عہدہ برآ نہیں ہوسکتا۔(7)