مسئلہ ۱۲: کسی کے پاس دو سو درہم کی قیمت کا مصحف شریف (قرآن مجید)ہے اگر وہ اوسے دیکھ کر اچھی طرح تلاوت کرسکتا ہے تو اوس پر قربانی واجب نہیں چاہے اوس میں تلاوت کرتا ہو یا نہ کرتا ہو اور اگر اچھی طرح اوسے دیکھ کر تلاوت نہ کرسکتا ہو تو واجب ہے۔ کتابوں کا بھی یہی حکم ہے کہ اوس کے کام کی ہیں تو قربانی واجب نہیں ورنہ ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: ایک مکان جاڑے کے لیے(2)اور ایک گرمی کے لیے یہ حاجت میں داخل ہے ان کے علاوہ اس کے پاس تیسرا مکان ہو جو حاجت سے زائد ہے اگر یہ دو سو درہم کا ہے تو قربانی واجب ہے اسی طرح گرمی جاڑے کے بچھونے حاجت میں داخل ہیں اور تیسرا بچھونا جو حاجت سے زائد ہے اوس کا اعتبار ہوگا۔ غازی کے لیے دو گھوڑے حاجت میں ہیں تیسرا حاجت سے زائد ہے۔ اسلحہ غازی کی حاجت میں داخل ہیں ہاں اگر ہر قسم کے دو ہتھیار ہوں تو دوسرے کو حاجت سے زائد قرار دیا جائے گا۔ گاؤں کے زمیندار کے پاس ایک گھوڑا حاجت میں داخل ہے اور دو ہوں تو دوسرے کو زائد مانا جائے گا۔ گھر میں پہننے کے کپڑے اور کام کاج کے وقت پہننے کے کپڑے اور جمعہ و عید اور دوسرے موقعوں پر پہن کر جانے کے کپڑے یہ سب حاجت میں داخل ہیں اور ان تین کے سوا چوتھا جوڑا اگر دو سو درہم کا ہے تو قربانی واجب ہے۔(3) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: بالغ لڑکوں یا بی بی کی طرف سے قربانی کرنا چاہتا ہے تو اون سے اجازت حاصل کرے بغیر اون کے کہے اگر کر دی تو اون کی طرف سے واجب ادا نہ ہوا اور نابالغ کی طرف سے اگرچہ واجب نہیں ہے مگر کر دینا بہتر ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: قربانی کا حکم یہ ہے کہ اس کے ذمہ جو قربانی واجب ہے کر لینے سے بری الذمہ ہوگیا اور اچھی نیت سے کی ہے ریا وغیرہ کی مداخلت نہیں تو اﷲ(عزوجل)کے فضل سے امید ہے کہ آخرت میں اس کا ثواب ملے۔ (5)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۶: یہ ضرورنہیں کہ دسویں ہی کو قربانی کر ڈالے اس کے لیے گنجائش ہے کہ پورے وقت میں جب چاہے کرے لہٰذا اگر ابتدائے وقت میں اس کا اہل نہ تھا وجوب کے شرائط نہیں پائے جاتے تھے اور آخر وقت میں اہل ہوگیا یعنی وجوب کے شرائط پائے گئے تو اوس پر واجب ہوگئی اور اگر ابتدائے وقت میں واجب تھی اور ابھی کی نہیں اور آخر وقت میں شرائط جاتے رہے تو واجب نہ رہی۔(6)(عالمگیری)