Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14)
89 - 186
    مسئلہ ۲۴: اگر قبضہ سے پہلے متعاقدین میں سے کسی کا انتقال ہوگیا تو یہ رجوع کو نہیں منع کرتا بلکہ وہ ہبہ ہی باطل ہوگیا وارث کہتا ہے میرے مورِث نے(1)یہ چیز تمھیں ہبہ کی تھی تم نے قبضہ نہیں کیا یہاں تک کہ اُس کا انتقال ہوگیا موہوب لہ کہتا ہے میں نے اُس کے مرنے سے پہلے ہی چیز پر قبضہ کرلیا تھا اگر وہ چیز وارث کے قبضہ میں ہو تو اُسی کا قول معتبرہے۔(2) (درمختار، بحر)
    (۳) واہب کا عوض لے لینا مانع رجوع ہے:
    مسئلہ ۲۵: موہوب لہ نے عوض دیا تو واہب کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ہبہ کا عوض ہے موہوب لہ نے کہا اپنے ہبہ کا عوض لویا اُس کا بدلہ لو یا اُس کے مقابلہ میں یہ چیز لو واہب نے لے لیا رجوع کرنے کا حق ساقط ہوگیا اور اگر عوض ہونا لفظوں سے ظاہر نہیں کیا تو ہر ایک اپنے اپنے ہبہ کو واپس لے سکتا ہے یعنی واہب ہبہ کو اور موہوب لہ عوض کو۔(3)

 (ہدایہ ، بحر)

    مسئلہ ۲۶: ہبہ کا عوض بھی ہبہ ہے اس میں وہ تمام باتیں لحاظ رکھی جائیں گی جو ہبہ کے لیے ضروری ہیں جن کا ذکر ہوچکا مثلاً اس کا جدا کردینا ،مشاع نہ ہونا،اس پر قبضہ دلادینا۔ (4) (درمختار، بحر)

صرف اتنا فرق ہے کہ ہبہ میں حق رجوع ہوتا ہے جب تک موانع نہ پائے جائیں اور اس میں یہ حق نہیں۔ (5) (عالمگیری)

    مسئلہ ۲۷: ہبہ کا عوض اوتنا ہی ہونا ضروری نہیں اُس سے کم اور زیادہ بھی ہوسکتا ہے اُس جنس کا بھی ہوسکتا ہے اور دوسری جنس کا بھی ہوسکتا ہے۔ مثلاً اکثر ایساہوتا ہے کہ تھوڑے سے پھل وغیرہ کی ڈالی لگاتے ہیں اور جتنے کی چیزیں ہوتی ہیں اُس سے بہت زیادہ پاتے ہیں۔ (6) (بحر)

    مسئلہ ۲۸: بچہ کو کوئی چیزہبہ کی گئی اس کے باپ کو یہ اختیار نہیں کہ اس کے مال سے اُس ہبہ کا معاوضہ دے اگر عوض
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔یعنی مرنے والے نے۔

2۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۸،ص۵۹۱.

و''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۴۹۷.

3۔۔۔۔۔۔''الھدایۃ''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۲،ص۲۲۶.

و''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۴۹۷.

4۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۸،ص۵۹۱.

و''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۴۹۷.

5۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب السابع فی حکم العوض فی الھبۃ،ج۴،ص۳۹۴.

6۔۔۔۔۔۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۷،ص۴۹۷.
Flag Counter